حدیث نمبر: 19933
١٩٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن المسيب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کو واپس بھیج دیا جو عدت کے دنوں میں حج یا عمرے کے لئے گئی تھیں۔
حدیث نمبر: 19934
١٩٩٣٤ - وعن سفيان عن منصور عن مجاهد عن سعيد بن المسيب أن عمر ردّ نسوة حاجات أو معتمرات خرجن في عدتهن (١).
حدیث نمبر: 19935
١٩٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن ابن جريج عن حميد الأعرج (عن مجاهد) (١) أن عمر وعثمان (ردا) (٢) (نسوة) (٣) حواج ومعتمرات حتى (اعتددن) (٤) في بيوتهن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عدت میں حج یا عمرے کے لئے جانے والی عورتوں کو واپس بھیج دیا تھا۔
حدیث نمبر: 19936
١٩٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان (عن حماد) (١) عن إبراهيم أن ابن مسعود ردّ نسوة حاجات ومعتمرات خرجن في عدتهن (٢).
حدیث نمبر: 19937
١٩٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن أبي المقدام عن سعيد ابن المسيب قال: المتوفى عنها والمطلقة، لا تحج ولا تعتمر ولا تلبس (مجسدًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حج یا عمرے کے لیے نکلنے والی ان عورتوں کو واپس بھیج دیا جو عدت میں نکلی تھیں۔
حدیث نمبر: 19938
١٩٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن علي (بن) (١) مبارك عن يحيى بن أبي كثير أن ابن عمر زجر امرأة تحج في عدتها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس عورت کو ڈانٹا تھا جو اپنی عدت میں حج کے لئے گئی۔
حدیث نمبر: 19939
١٩٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: رد عمر بن الخطاب نسوة من ذي الحليفة حاجات (قتل) (١) أزواجهن في بعض تلك المياه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کو ذو الحلیفہ سے واپس بھیج دیا تھا جو حج کرنے گئی تھیں جبکہ ان کے خاوند وہاں شہید کردیئے گئے تھے۔
حدیث نمبر: 19940
١٩٩٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن مالك بن أنس عن حميد ابن قيس (عن عمرو بن شعيب) (١) عن سعيد بن المسيب قال: رد عمر نسوة المتوفى عنهن أزواجهن من البيداء فمنعهن (٢) الحج (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کو بیداء سے واپس بھیج دیا تھا جن کے خاوند انتقال کرگئے تھے اور انہیں حج سے روک دیا تھا۔