کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک اگر ایک بچے کو جنم دے دے تو عدت ختم ہوجاتی ہے
١٩٩١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن قال: إذا توفي الرجل (أو) (١) طلق امرأته وهي حامل، فوضعت ولدًا وبقي في بطنها آخر فقد انقضت عدتها بالأول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کا انتقال ہوگیا یا اس نے اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دی۔ عورت نے بچے کو جنم دیا اور اس کے پیٹ میں ایک اور بچہ بھی تھا تو پہلے بچے کی پیدائش سے عدت پوری ہوگئی۔
١٩٩١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم ⦗٣٧٢⦘ قال: إذا وضعت أحدهما فقد بانت (منه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے ایک بچہ جنم دے دیا تو وہ بائنہ ہوگئی۔
١٩٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن عكرمة قال: إذا وضعت (الأول) (١) فقد بانت، قال: قيل له: تزوج؟ (قال) (٢): لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے ایک بچے جو جنم دے دیا تو وہ بائنہ ہوگئی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اب وہ شادی کرسکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ بندے (حضرت عکرمہ) سے جھگڑا کیا گیا۔