١٩٨٤٤ - [حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر (عن سعيد) (١) (عن الشيباني) (٢) عن حبيب المعلم عن الحسن عن علي عدة الأمة حيضتان، فإن لم تكن تحيض فشهر ونصف] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر اسے حیض نہ آتے ہوں تو اس کی عدت ڈیڑھ مہینہ ہے۔
١٩٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: عدة الأمة حيضتان، فإن لم تكن تحيض فشهر ونصف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر حیض نہ آتے ہوں تو وہ ڈیڑھ مہینہ کی عدت گزارے گی۔
١٩٨٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن سعيد عن أبي (معشر) (١) (عن إبراهيم) (٢) مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٩٨٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن داود بن قيس قال: سألت سالم بن عبد اللَّه عن عدة الأمة فقال: حيضتان، فإن لم تكن تحيض فشهر ونصف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر حیض نہ آتے ہوں تو وہ ڈیڑھ مہینہ کی عدت گزارے گی۔
١٩٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم قال: عدة الأمة حيضتان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔
١٩٨٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: إن كانت تحيض فحيضتان، وإن كانت لا تحيض فشهر ونصف.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر حیض نہ آتے ہوں تو وہ ڈیڑھ مہینہ کی عدت گزارے گی۔
١٩٨٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن مطر عن عطاء عن ابن عمر قال: عدة الأمة حيضتان إن كانت تحيض، فإن لم تكن تحيض فشهر ونصف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر حیض نہ آتے ہوں تو وہ ڈیڑھ مہینہ کی عدت گزارے گی۔
١٩٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو (سمع عمرو) (١) بن أوس يقول: أخبرني رجل من ثقيف يقول: سمعت عمر بن الخطاب (يقول) (٢): لو استطعت أن أجعل عدة الأمة حيضة ونصفًا (لفعلت) (٣) فقال له رجل: لو جعلتها شهرًا ونصفا فسكت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں باندی کی عدت ایک حیض اور نصف مقرر کرنے کی طاقت رکھتا تو ضرور ایسا کردیتا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اگر آپ ان کی عدت ڈیڑھ مہینہ مقرر کردیں تو زیادہ بہتر ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سکوت اختیار فرمالیا۔
١٩٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: عدة الأمة حيضتان، فإن لم تكن تحيض فشهران.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت دو حیض ہے۔ اگر حیض نہ آتے ہوں تو وہ ڈیڑھ مہینہ کی عدت گزارے گی۔
١٩٨٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك في الأمة التي لم تحصنر وقد راهقت: عدتها خمسة و (أربعون) (١) يومًا، فإن كانت تحيض فعدتها حيضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسی باندی جو قریب البلوغ ہو اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت پینتالیس دن ہیں۔ اگر اسے حیض آتا ہو تو اس کی عدت ایک حیض ہے۔
١٩٨٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو (سعد) (١) عن ابن جريج عن عطاء في عدة الأمة قال: إن كانت تحيض فحيضتان، وإن لم تكن تحيض فعدتها خمسة وأربعون يومًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر باندی کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت دو حیض ہیں اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت پینتالیس دن ہیں۔
١٩٨٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أسباط بن محمد عن أشعث عن الشعبي قال: عدة الأمة مثل نصف عدة الحرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کی عدت آزاد عورت کی عدت کا نصف ہے۔