کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چارمہینے گزرجائیں تو عورت پرعدت گزارنا ضروری ہے
١٩٦٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن حنفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے اور عورت پر تین حیض عدت گزارنا لازم ہوگا۔
١٩٦٣١ - وعن سالم عن ابن الحنفية (قالا) (١): إذا مضت أربعة أشهر في الإيلاء فهي تطليقة بائنة، وعليها أن تعتد ثلاثة قروء.
١٩٦٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام عن علي بن (بذيمة) (١) عن أبي عبيدة (٢) عن عبد اللَّه قال: إذا مضت أربعة أشهر فهي تطليقة بائن، وتعتد بعد ذلك ⦗٣٠٩⦘ ثلاث حيض (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ایلاء میں چار مہینے گذر جائیں تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے اور عورت پر تین حیض عدت گزارنا لازم ہوگا۔
١٩٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن ومحمد قالا: تعتد بعد (أربعة) (١) أشهر (٢): عدة المطلقة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء کردہ عورت چار مہینے کے بعد مطلقہ والی عدت گزارے گی۔
١٩٦٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن الحكم وحماد قالا: إذا آلى الرجل من امرأته فمضت أربعة أشهر، فإنها تعتد بعد ذلك (ثلاثة) (١) أشهر إذا كانت لا تحيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور چار مہینے گذر گئے تو اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو وہ تین مہینے عدت گزارے گی۔
١٩٦٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن برد عن مكحول قال: إذا آلى الرجل من امرأته فمضت أربعة أشهر، فهي (تطليقة) (١)، وتستقبل العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور چار مہینے گذر گئے تو ایک طلاق ہوگئی اور وہ عدت نئے سرے سے گزارے گی۔
١٩٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان بن (عيينة) (١) عن عمرو عن جابر بن زيد قال: ليس عليها عدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر عدت لازم نہیں ہے۔
١٩٦٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يعلي بن (عبيد) (١) عن عبد الملك عن عطاء في الرجل آلى من امرأته حتى مضت أربعة أشهر كيف تعتد؟ قال: تعتد (ثلاثة) (٢) قروء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور چار مہینے گذر گئے تو وہ تین حیض عدت کے گزارے گی۔