کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: خلع لینے والی عورت کا نفقہ عدت کے دوران مرد پر لازم ہوگا یا نہیں؟
١٩٥٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى (بن زكريا) (١) بن أبي زائدة عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: للمختلعة السكنى والنفقة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع لینے والی عورت کو رہائش اور نفقہ ملے گا۔
١٩٥٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) عن مطرف عن الشعبي قال: للمختلعة السكنى والنفقة؛ لأنها لو شاءت تزوجت زوجها في (عدتها) (٢) (فتتزوجه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع لینے والی عورت کو رہائش اور نفقہ ملے گا کیونکہ اگر وہ چاہے تو عدت میں اپنے شوہر سے شادی کرسکتی ہے۔
١٩٥٣٣ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا وكيع عن سفيان عن حماد قال: المختلعة لها النفقة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع لینے والی عورت کو نفقہ ملے گا۔
١٩٥٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع وعبدة عن إسماعيل عن إبراهيم البصري عن الشعبي سئل عن المختلعة لها نفقة فقال: كيف ينفق عليها وهو يأخذ (منها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا خلع لینے والی عورت کو نفقہ ملے گا انہوں نے فرمایا کہ وہ اس پر کیسے خرچ کرسکتا ہے حالانکہ مرد نے عورت سے پیسے وصول کئے ہیں۔
١٩٥٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: ليس للمختلعة ولا المطلقة ثلاثًا سكنى ولا نفقة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ خلع لینے والی عورت کے لئے اور اس عورت کے لئے جسے تین طلاقیں دی جاچکی ہوں رہائش اور نفقہ نہیں ہے۔
١٩٥٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن (يزيد) (١) (عن) (٢) أبي العلاء عن قتادة قال: ليس للمختلعة و (المبارئة) (٣) نفقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع لینے والی اور نکاح سے فارغ ہوجانے والی عورت کے لئے نفقہ نہیں ہے۔