١٩٥٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن ابن (جريج) (١) عن عطاء قال: للمملكة (والمخيرة) (٢) والمختلعة متعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کو اس کے معاملے کا مالک بنادیا گیا ہو، یا اسے اختیار دے دیا گیا ہو یا اس نے خلع لی ہو، ایسی عورت کو متعہ ملے گا۔
١٩٥٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال: للمختلعة متعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع لینے والی عورت کو متعہ ملے گا۔
١٩٥٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن مطرف عن الشعبي قال: ليس للمختلعة متعة، كيف يمتعها وهو يأخذ منها؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع لینے والی عورت کو متعہ بھی نہیں ملے گا، وہ اسے کیسے متعہ دے حالانکہ وہ اس سے مال لے رہا ہے۔
١٩٥٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب عن ابن أبي عروبة عن قتادة قال: لكل مطلقة متاع إلا المختلعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع لینے والی عورت کے علاوہ ہر طلاق یافتہ کے لئے متعہ ہے۔
١٩٥٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا الفضل بن دكين عن شريك عن ليث عن طاوس (عن ابن عباس) (١) قال: ليس (للمختلعة) (٢) متعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خلع لینے والی عورت کے لئے متعہ نہیں ہے۔