کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک خلع کے بعد عدت میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 19523
١٩٥٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن المبارك عن ابن جريج عن عطاء (١) عن (ابن) (٢) عباس وابن الزبير أنهما قالا: ليس بشيء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ خلع کے بعد عدت میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 19524
١٩٥٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن منصور عن عمرو بن (هرم) (١) عن جابر بن (زيد) (٢) أنه كان يقول: لا يلحقها طلاقه إياها ما كانت في عدة منه (بائنة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع کے بعد عدت میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 19525
١٩٥٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس ومنصور عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع کے بعد عدت میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، خواہ عورت عدت میں ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 19526
١٩٥٢٦ - وحجاج عن عطاء في المختلعة: لا يقع عليها (طلاق) (١) زوجها ما ⦗٢٨٥⦘ كانت في (عدة) (٢) منه (بائنة) (٣).
حدیث نمبر: 19527
١٩٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن حسن (عن ليث) (١) (عن) (٢) طاوس قالا: لا يقع عليها الطلاق ما كانت في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع کے بعد عدت میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، خواہ عورت عدت میں ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 19528
١٩٥٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن (عبد الرحمن) (١) عن (الحسن) (٢) عن ليث عن الشعبي وطاوس قالا: إذا خلع ثم طلق لم يقع طلاقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع کے بعد عدت میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 19529
١٩٥٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن مطر عن عكرمة أن المختلعة لا يلحقها الطلاق (في) (١) (عدتها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلع کے بعد عدت میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، خواہ عورت عدت میں ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 19530
١٩٥٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن أبي (سلمة) (١) وابن ثوبان قالا: إن طلقها في مجلسه لزمه، وإلا فلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ اور حضرت ابن ثوبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خلع کی مجلس میں طلاق دی تو واقع ہوگی ورنہ نہیں۔