کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک لفظ میں طلاق دی اور تین کی نیت کی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19388
١٩٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (هشيم) (١) عن ابن (شبرمة) (٢) عن الشعبي قال: النية فيما خفي فأما فيما ظهر فلا نية (فيه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نیت مخفی چیزوں میں ہوتی ہے ظاہر چیزوں میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 19389
١٩٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن (عبيد) (١) عن خالد بن دينار عن الحسن في رجل طلق امرأته واحدة ينوي ثلاثًا قال: هي واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی اور نیت تین کی کی تو ایک طلاق واقع ہوگی۔
حدیث نمبر: 19390
١٩٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن جعفر الأحمر عن مطرف عن الحكم [قال: هي واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک طلاق ہوگی۔
حدیث نمبر: 19391
١٩٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ليث عن الحكم] (١) في رجل قال لامرأته: أنت طالق (وأشار) (٢) بيده ثلاثًا قال: (فسألوه) (٣) عن ذلك (فقال) (٤): هي واحدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے طلاق ہے اور ہاتھ سے تین کا اشارہ کرے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک طلاق واقع ہوگی۔
حدیث نمبر: 19392
١٩٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن بيان قال: سئل الشعبي عن (أبواب) (١) الطلاق فقال (الشعبي) (٢): سئل رجل مرة: أطلقت امرأتك؟ قال: فأومأ بيده بأربع (أصابع) (٣) ولم يتكلم ففارق امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص سے سوال کیا گیا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس نے انگلی سے چار کا اشارہ کیا اور کوئی بات نہ کی تو اس نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا۔