کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص سے سوال کیا جائے کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب میں کہے ہاں حالانکہ اس نے طلاق نہ دی ہو تو کیا حکم ہے؟
١٩٣٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم في رجل ⦗٢٥٣⦘ (قيل) (١) له: طلقت امرأتك؟ ولم يكن (فعل) (٢) فقال: نعم! فقال يقع: عليها الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص سے سوال کیا جائے کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ وہ جواب میں کہے ہاں، حالانکہ اس نے طلاق نہ دی ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ طلاق واقع ہوجائے گی۔
١٩٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن أبي حرة عن الحسن في رجل (قيل له) (١): طلقت امرأتك؟ ولم يكن طلقها فقال: نعم! فقال الحسن: (فقد) (٢) طلقت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص سے سوال کیا جائے کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ وہ جواب میں کہے ہاں، حالانکہ اس نے طلاق نہ دی ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس عورت کو طلاق ہوگئی۔
١٩٣٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر في الرجل يقال له: طلقت؟ ولم يكن طلق، فيقول: نعم! فقال: كذبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص سے سوال کیا جائے کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ وہ جواب میں کہے ہاں، حالانکہ اس نے طلاق نہ دی ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس نے ایک جھوٹ بولا۔