کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میری بیوی نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟
❮
❯
١٩٣٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إبراهيم بن ميمون مولى آل سمرة عن عروة بن (فائد) (١) أن وجلًا قال لامرأته: إن فعلت كذا وكذا فلست لي بامرأة، ⦗٢٥٠⦘ (ففعلت) (٢) فانطلقت معه إلى عبد الرحمن بن أبي ليلى (فقال) (٣): ما نوى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن فائد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو فلاں فلاں کام کرے تو میری بیوی نہیں ہے، اس عورت نے وہی کام کیا، پھر وہ اپنے خاوند کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی انہوں نے فرمایا کہ جو نیت کی تھی وہ واقع ہوگیا، پھر وہ اپنے خاوند کے ساتھ حضرت ابو عبداللہ جدلی کے پاس گئی انہوں نے بھی فرمایا کہ جو نیت کی ہے وہ واقع ہوگیا، اور حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19372
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19372، ترقيم محمد عوامة 18665)
١٩٣٧٣ - (وأتت) (١) معه أبا (عبد اللَّه) (٢) (الجدلي) (٣) فقال: ما نوى.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19373
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19373، ترقيم محمد عوامة ---)
١٩٣٧٤ - (وقال) (١) سعيد بن جبير: ليس بشيء.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19374
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19374، ترقيم محمد عوامة ---)
١٩٣٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن هشام الدستوائي عن قتادة قال: قلت لسعيد بن المسيب: إن (الحجاج) (١) يحدث عن أبيه أنه قال في رجل قال لامرأته: لست لي بامرأة، فقال: تطليقة، فقال سعيد: (ما) (٢) أبعد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا کہ حجاج اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتا ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میری بیوی نہیں تو ایک طلاق ہوجائے گی، یہ سن کر حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ بہت بعید از قیاس بات ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19375
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19375، ترقيم محمد عوامة 18666)
١٩٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم سئل (١) (عن رجل) (٢) قال لامرأته: (ما أنت لي) (٣) بامرأة مرارا وهو غضبان، قال إبراهيم: ما أراه بلغ هذا (٤) إلا وهو يريد الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کئی مرتبہ غصے کی حالت میں کہے کہ تو میری بیوی نہیں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں وہ طلا ق کا ارادہ کرکے ہی اس حد کو پہنچ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19376
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19376، ترقيم محمد عوامة 18667)
١٩٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه قال (في رجل قال) (١) لامرأته: لست لي بامرأة، قال: ما نوى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میری بیوی نہیں تو اس کی نیت کا اعتبار ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19377
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19377، ترقيم محمد عوامة 18668)
١٩٣٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن سواء عن سعيد عن مطر عن الحسن (١) وعطاء في رجل قال لامرأته: لست لي بامرأة (قالا) (٢): كذبة (ليست) (٣) بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میری بیوی نہیں تو یہ جھوٹ ہے اور یہ کچھ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19378
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19378، ترقيم محمد عوامة 18669)
١٩٣٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن سواء عن سعيد عن قتادة قال: إذا واجهها (به) (١) وأراد الطلاق فهي واحدة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اس کی طرف منہ کرکے کہا اور طلاق کا ارادہ کیا تو ایک طلاق ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19379
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19379، ترقيم محمد عوامة 18670)