کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے اجازت دی، تو شادی کرلے تو کیا حکم ہے؟
❮
❯
١٨٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم في رجل قال لامرأته: قد أذنت لك (فتزوجي) (١) قال: إن لم ينو طلاقا فليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے اجازت دی، تو شادی کرلے تو اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو یہ کچھ نہیں، یہ بات حضرت شعبی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم کھائی جاتی ہے، اس سے بہتر یہ تھا کہ طلاق ہوجاتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18952
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18952، ترقيم محمد عوامة 18289)
١٨٩٥٣ - فذكر ذلك للشعبي، فقال الشعبي: والذي يحلف به إن (أهون) (١) من هذا ليكون طلاقًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18953
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18953، ترقيم محمد عوامة ---)
١٨٩٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن أبي حرة عن الحسن في رجل قال لامرأته: اخرجي من بيتي، ما يجلسك في بيتي؟ لست لي بامرأة، يقول: ثلاث مرات قال الحسن: (هذه) (١) واحدة وينظر ما نوى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرے گھر سے نکل جا ! تو میرے گھر میں کیوں بیٹھی ہے ؟ تو میری بیو ی نہیں ہے ! یہ تین مرتبہ کہا۔ حسن رحمہ اللہ نے فرمایا لیکن یہ ایک مرتبہ ہوگا اور اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18954
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18954، ترقيم محمد عوامة 18290)