کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد کہے کہ میں نے اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کو مراد لیا تھا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18943
١٨٩٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن عاصم عن السميط (١) (السدوسي) (٢) قال: خطبت امرأة فقالوا: لا (نزوجك) (٣) حتى تطلق امرأتك ثلاثًا فقلت: قد طلقتها ثلاثًا (قال) (٤): فزوجوني ثم نظروا فإذا امرأتي عندي (فقالوا) (٥): أليس قد طلقت امرأتك؟ قلت: (بلى) (٦) (كانت) (٧) تحتي (فلانة) (٨) ⦗١٥١⦘ (بنت) (٩) فلان فطلقتها، وأما هذه (فلم) (١٠) أطلقها، (فأتيت) (١١) شقيق بن (مجزأة) (١٢) بن ثور وهو يريد الخروج إلى عثمان فقلت: سل أمير المؤمنين عن هذه فسأله فقال: نيته (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
سمیط سدوسی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے مجھے کہا کہ جب تک تم اپنی بیوی کو طلاق نہ دو ہم نکاح نہیں کریں گے، میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں، انہوں نے میری شادی کرادی، شادی کے بعد انہوں نے دیکھا کہ میری بیوی تو میرے پاس ہے، انہوں نے کہا کہ تم نے اپنے بیوی کو طلاق نہیں دی تھی ؟ میں نے کہا کہ دی تھی۔ میرے نکاح میں فلانہ بنت فلاں تھی میں نے اس کو طلاق دی تھی اس کو نہیں دی تھی۔ پھر میں شقیق بن مجزاۃ کے پاس آیا وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کا ارادہ کررہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ امیر المومنین سے اس بارے میں سوال کرنا، انہوں نے سوال کیا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔
حدیث نمبر: 18944
١٨٩٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (محمد بن مسلم) (١) عن إبراهيم بن (ميسرة) (٢) عن ابن طاوس عن أبيه أن رجلًا كان جالسا مع امرأته على وسادة، وكأن الرجل (رضي) (٣) فقال لامرأته: أنت طالق، يعني الوسادة، فقال طاوس: ما أرى (عليك) (٤) شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک تکیے پر بیٹھا تھا، آدمی نے اپنی بیوی کو خطاب کرتے ہوئے تکیہ کی نیت کرتے ہوئے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تو کیا حکم ہے ؟ حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حدیث نمبر: 18945
١٨٩٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال الطلاق ما عنى به (الطلاق) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق سے جو نیت ہو وہی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 18946
١٨٩٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء في رجل يقول لامرأته: قد أعتقتك، قال: لا يكون طلاقًا إلا أن يكون نوى ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا میں نے تجھے آزاد کیا اور طلاق کی نیت تھی تو طلاق ہوگی۔
حدیث نمبر: 18947
١٨٩٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن حجاج (عن) (١) إسماعيل بن رجاء عن إبراهيم قال: قال مسروق: إنما الطلاق ما عنى به الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق سے جو نیت ہو وہی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 18948
١٨٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا بشر بن مفضل عن (سوار) (١) قال: نا (-أبو ثمامة- وامرأته من أهلنا-) (٢) أن كنانة بن (نقب) (٣) كانت عنده امرأة، وقد ولدت له أولادًا في الجاهلية فقال لها: ما فوق نطاقك محرر، فخاصمته إلى الأشعري فقال: أردت بما قلت الطلاق؟ قال: نعم! قال: فقد (أبناها) (٤) منك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ثمامہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کنانہ بن نقب رحمہ اللہ کے نکاح میں ایک عورت تھی، جس کے بطن سے زمانہ جاہلیت میں ان کی اولاد بھی ہوئی تھی، کنانہ نے اس عورت سے کہا کہ تیرے پیٹ سے اوپر کا حصہ آزاد ہے، وہ عورت جھگڑا لے کر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے آدمی سے پوچھا کہ کیا تو نے طلاق کی نیت کی تھی۔ اس نے کہا جی ہاں۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر ہم نے اسے تجھ سے جدا کردیا۔
حدیث نمبر: 18949
١٨٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن منصور عن (الحسن) (١) في رجل قال لأمرأته: أنت عتيقة، قال: هي تطليقة؛ وهو أحق بها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق کی نیت کرتے ہوئے کہا کہ توآزاد ہے تو ایک طلاق پڑجائے گی اور وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 18950
١٨٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن عبد الملك بن مسلم الحنفي [عن عيسى ابن حطان عن (ريان) (١) بن صبرة الحنفي] (٢) أنه كان جالسا في مجلس قومه فأخذ نواة فقال: نواة طالق، نواة طالق ثلاثًا، قال: فرفع إلى علي فقال: ما ⦗١٥٣⦘ نويت؟ قال: نويت امرأتي قال: ففرق بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن حطان کہتے ہیں کہ ریان بن صبرہ حنفی رحمہ اللہ اپنی قوم کی مسجد میں بیٹھا تھا، اس نے ایک گٹھلی پکڑی اور تین مرتبہ کہا کہ گٹھلی کو طلاق ہے۔ یہ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا، آپ نے اس سے پوچھا کہ تیری نیت کیا تھی ؟ اس نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان جدائی کرادی۔
حدیث نمبر: 18951
١٨٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك بن (أبي) (١) سليمان عن عطاء قال: (أتي) (٢) ابن مسعود في رجل قال لامرأته: حبلك على (غاربك) (٣)، فكتب ابن مسعود إلى عمر، فكتب عمر: (مره) (٤) فليوافيني بالموسم فوافاه بالموسم، فأرسل إلى علي فقال له علي: أنشدك باللَّه ما نويت؟ قال: (نويت) (٥) امرأتي، قال: (ففرق) (٦) بينهما (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا اس نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ تیری رسی تیری گردن پر ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں خط لکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسے کہو کہ موسم حج میں مجھے ملے۔ وہ آدمی موسم حج میں آیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تمہاری نیت کیا تھی ؟ اس نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔