کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے ایک سال تک طلاق ہے تو طلاق کب واقع ہوگی؟
١٨٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن (الحسن) (١) في الرجل يقول لامرأته: أنت طالق إلى سنة قال: يقع عليها (يوم قال) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے ایک سال تک طلاق ہے توطلاق اسی وقت واقع ہوجائے گی۔
١٨٨٤٦ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم عن يحيى بن سعيد (عن سعيد) (١) بن ⦗١٣١⦘ المسيب أنه كان (لا) (٢) يؤجل في الطلاق] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن رحمہ اللہ مسیب فرماتے ہیں کہ طلاق کو مؤجل نہیں کیا جاسکتا۔
١٨٨٤٧ - [حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن منصور عن الحسن أنه كان لا يؤجل في الطلاق] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کو مؤجل نہیں کیا جاسکتا۔
١٨٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن (خالد) (١) عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: إذا طلق إلى أَجل وقع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی خاص مدت کے لئے طلاق دی تو اسی وقت واقع ہوجائے گی۔
١٨٨٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا كثير بن هشام عن فرات عن عبد الكريم قال: كان الزهري يقول: (تعتد) (١) يوم (قال) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس وقت طلاق دی اسی وقت سے عدت شروع ہوجائے گی۔