کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی آدمی نے کہا کہ میں جس عورت سے شادی کروں اسے طلاق اور کوئی وقت مقرر نہ کرے تو کیا حکم ہے؟
١٨٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن قدامة قال: قلت لسالم ابن عبد اللَّه: رجل قال: كل امرأة يتزوجها فهي (طالق، و) (١) كل جارية يشتريها فهي حرة (فقال) (٢): أما أنا فلو كنت لم أنكح، ولم (أشتر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی یہ کہے کہ میں اگر کسی عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے اور اگر کوئی باندی خریدوں تو وہ آزاد ہے، اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو نہ شادی کرتا اور نہ کوئی باندی خریدتا۔
١٨٨٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسماعيل عن (الشعبي) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں۔
١٨٨٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن الزهري ومكحول في الرجل يقول: كل امرأة (أتزوجها) (١) فهي طالق، أنهما (كانا) (٢) يوجبان ذلك عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ اور حضرت مکحول رحمہ اللہ سے اس بارے میں منقول ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا تھا کہ جس عورت سے میں شادی کروں تو اسے طلاق ہے وہ اس بات کو لازم قرار دیتے تھے۔
١٨٨٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة قال: نا عبد الملك بن أبي سليمان ⦗١٢٠⦘ قال: سألت سعيد بن جبير عن الرجل يقول: كل امرأة أتزوجها فهي طالق قال: كيف تطلق ما لا تملك، إنما الطلاق بعد النكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں جس عورت سے شادی کروں اسے طلاق ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس کے تم مالک نہیں اسے طلاق کیسے دے سکتے ہو ؟ طلاق تو نکاح کے بعد ہوتی ہے۔