کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: باکرہ عورتوں سے نکاح کی فضیلت
حدیث نمبر: 18633
١٨٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو أسامة عن حماد بن زيد قال: نا عاصم قال: (قال) (٢) عمر بن الخطاب: عليكم بالأبكار من النساء فإنهن أعذب أفواها (وأفتح) (٣) أرحامًا وأرضى (باليسير) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باکرہ عورتوں سے نکاح کو ترجیح دو کیونکہ ان کی گفتگو زیادہ شیریں ہوتی ہے، زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہوتی ہیں اور وہ تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18633
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18633، ترقيم محمد عوامة 17990)
حدیث نمبر: 18634
١٨٦٣٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (نا) (١) سفيان عن عمرو بن قيس عن رجل عن ابن مسعود قال: تزوجوا الأبكار فإنهن أقل (خبًا) (٢) وأشد ودًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باکرہ عورتوں سے شادی کرنے کو ترجیح دو ، کیونکہ یہ تھوڑے پر گزارا کرنے والی اور زیادہ محبت کرنے والی ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18634
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18634، ترقيم محمد عوامة 17991)
حدیث نمبر: 18635
١٨٦٣٥ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد اللَّه بن عثمان بن خثيم عن مكحول قال: قال رسول اللَّه ﷺ: (١) "عليكم (بالجواري) (٢) (الشواب) (٣) فانكحوهن فإنهن أطيب أفواها، وأعز أخلاقا (وأفتح) (٤) أرحامًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نوجوان لڑکیوں سے نکاح کرنے کو ترجیح دو کیونکہ وہ زیادہ شیریں گفتگو والی ہوتی ہیں، اچھے اخلاق والی ہوتی ہیں اور زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18635
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مكحول تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18635، ترقيم محمد عوامة 17992)
حدیث نمبر: 18636
١٨٦٣٦ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن سالم عن جابر قال: (قال) (١): سألني رسول اللَّه ﷺ: "بكرًا تزوجت أم (ثيبًا) (٢)؟ "، قال: قلت: لا، بل (ثيبًا) (٣) قال: "فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری شادی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سوال کیا کہ تم نے باکرہ سے شادی کی یا ثیبہ سے ؟ میں نے کہاثیبہ سے، آپ نے فرمایا کہ باکرہ سے کیوں نہیں کی وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی اور تم اس کے ساتھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18636
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٧١٥)، وأحمد (١٤٣٧٤)، وأصله في البخاري (٥٠٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18636، ترقيم محمد عوامة 17993)
حدیث نمبر: 18637
١٨٦٣٧ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن الأسود بن قيس العبدي عن (نبيح) (٢) ابن عبد اللَّه (العنزي) (٣) عن جابر بن عبد اللَّه قال: مشيت مع النبي ﵇ (٤) فقال: "ألك امرأة يا جابر؟ " (قلت) (٥): نعم! (فقال) (٦): ⦗٧٦⦘ " (ثيبًا) (٧) نكحت أم بكرًا؟ "، (قال) (٨): تزوجتها وهي ثيب، فقال النبي ﵇ (٩): "فلولا (تزوجتها) (١٠) جارية تلاعبها"، قال: قلت (له) (١١): (قتل أبي) (١٢) معك يوم كذا (و) (١٣) كذا، (وترك) (١٤) (جواريًا) (١٥) (فكرهت) (١٦) أن أضم إليهن جارية، فتزوجت ثيبًا (تقصع) (١٧) (قمل) (١٨) (إحداهن) (١٩)، (وتخيط) (٢٠) (درع) (٢١) (إحداهن) (٢٢) إذا (تخرق) (٢٣) فقال رسول اللَّه ﷺ: " (فإنك) (٢٤) نعمًّا رأيت" (٢٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے جابر ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے ثیبہ سے شادی کی یا باکرہ سے ؟ میں نے کہا کہ ثیبہ سے شادی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے نوجوان لڑکی سے شادی کرتے تاکہ تم اس سے دل لگی کرتے۔ میں نے کہا کہ میرے والد فلاں جنگ میں آپ کی معیت میں جامِ شہادت نوش کرگئے، ان کی چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں، میں نے ان کے ساتھ ایک اور نوجوان کو لانا پسند نہ کیا۔ میں نے ایک ثیبہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی جوؤیں بھی نکالے اور اگر ان کا کپڑا پھٹ جائے تو اسے بھی سی دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے صحیح بات سوچی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18637
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٨٦١)، وأصله في البخاري (٢٤٠٦)، ومسلم (٧١٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18637، ترقيم محمد عوامة 17994)