حدیث نمبر: 18600
١٨٦٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (العلاء) (١) بن عبد الكريم (اليامي) (٢) عن عمار بن عمران رجل من زيد اللَّه عن امرأة منهم عن عائشة أنها شوفت جارية وطافت بها وقالت: لعلنا (نصطاد) (٣) بها (٤) شباب قريش (٥).
مولانا محمد اویس سرور
بنو زید اللہ کی ایک خاتون بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک باندی کو بناؤ سنگھار کرکے اس کے ساتھ باہر آئیں اور فرمایا کہ اس کے ذریعے ہم قریش کے نوجوانوں کا شکارکریں گے۔ (مراد یہ تھ یکہ بچی کی خوبصورتی اور بناؤ سنگھار اس کے رشتۂ ازدواج میں آسانی کا باعث بن سکتا ہے۔ راویہ کے مجہول ہونے کی بنا پر یہ روایت ضعیف ہے)
حدیث نمبر: 18601
١٨٦٠١ - حدثنا وكيع (قال) (١): نا أسامة بن زيد عن أبي حازم عن سهل بن ⦗٦٤⦘ (سعد) (٢) الساعدي أنهم مروا عليه بجارية قد زينت قال: فدعا بها و (نظر) (٣) إليها وأجلسها في حجره ومسح على رأسها ودعا لها بالبركة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنی ایک سنوری ہوئی بچی کو لے کر حضرت سہل بن ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے، انہوں نے اسے بلایا، اس کی طرف دیکھا، اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے برکت کی دعا دی۔
حدیث نمبر: 18602
١٨٦٠٢ - حدثنا (وكيع) (١) قال: (نا) (٢) أسامة بن زيد عن بعض أشياخه قال: قال عمر: إذا أراد أحد منكم أن يحسن (الجارية) (٣) (فليزينها) (٤) (وليطوف) (٥) بها (٦) يتعرض بها رزق اللَّه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے کوئی یہ چاہے کہ اپنی بچی کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے تو اسے تیار کرے اور باہر لائے، اللہ تعالیٰ کا رزق اس کے لئے آئے گا۔ (یعنی اس کی شادی ہوجائے گی)