کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن عورتوں کے خاوند شہر میں موجود نہ ہوں ان سے مردملاقات کے لئے نہیں جاسکتے
حدیث نمبر: 18591
١٨٥٩١ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) (حفص) (٢) بن (غياث) (٣) عن (مجالد) (٤) عن الشعبي عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن (ندخل) (٥) ⦗٦٠⦘ على (المغيبات) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ان عورتوں سے ملاقات کے لئے جایا جائے جن کے خاوند شہر میں نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 18592
١٨٥٩٢ - حدثنا حفص عن ليث ومسعر عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن حميد ابن عبد الرحمن قال: قال عمر: ألا لا يلج رجل على امرأة إلا وهي ذات محرم منه، وإن قيل (حموها) (٢)؟ (٣) (ألا إن (حموها)) (٤) (٥) الموت (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خبردار ! کوئی شخص غیر محرم عورت سے ملاقات نہ کرے، اور اگر دیور یا جیٹھ کے بارے میں پوچھو تو میں کہوں گا کہ وہ تو موت ہیں۔
حدیث نمبر: 18593
١٨٥٩٣ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن أبي (معبد) (١) قال: سمعت ابن عباس يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: "ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا (ومعها) (٢) ذو محرم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خبردار ! کوئی شخص کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے، الا یہ کہ اس عورت کے ساتھ کوئی محرم ہو۔
حدیث نمبر: 18594
١٨٥٩٤ - حدثنا هشيم عن أبي (الزبير) (١) عن جابر أن رسول اللَّه ﷺ قال: ⦗٦١⦘ "ألا لا يبيتن رجل عند (امرأة) (٢) إلا أن يكون (ناكح) (٣) (أو) (٤) (ذو) (٥) محرم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مرد کسی عورت کے گھر میں رات نہ رہے الا یہ کہ وہ اس کا خاوند ہو یا محرم رشتہ دار۔
حدیث نمبر: 18595
١٨٥٩٥ - حدثنا شبابة بن سوار قال: نا ليث بن (سعد) (١) عن (يزيد) (٢) بن أبي حبيب عن أبي الخير (عن) (٣) عقبة بن عامر أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إياكم والدخول على النساء" فقال رجل من الأنصار: يا رسول اللَّه! إلا (الحمو) (٤)؟ (فقال) (٥): " (الحمو) (٦) الموت" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ ایک انصاری نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! دیور یا جیٹھ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ تو موت ہے۔
حدیث نمبر: 18596
١٨٥٩٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت (ذكوانًا) (١) يحدث عن مولى (لعمرو) (٢) بن العاص أنه أرسله إلى علي يستأذن على أسماء ابنة عميس ⦗٦٢⦘ فأذن له، حتى إذا فرغ من حاجته (سأل) (٣) (المولى) (٤) (عمرًا) (٥) عن ذلك، فقال: إن رسول اللَّه ﷺ نهانا أن (ندخل) (٦) (على) (٧) النساء بغير إذن أزواجهن (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ذکوان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خادم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ ان سے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کریں جب اجازت مل گئی تو انہوں نے اپنی ضرورت کی بات کی تو خادم نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے اس کی وجہ پوچھی تو اس پر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم عورتوں سے ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر ملاقات کریں۔
حدیث نمبر: 18597
١٨٥٩٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن زياد بن (فياض) (١) عن (تميم) (٢) بن سلمة قال: قال عمرو بن العاص: نهينا أن (ندخل) (٣) على (المغيبات) (٤) إلا بإذن أزواجهن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ہم عورتوں سے ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر ملاقات کریں۔