١٨٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل (بن علية) (١) عن ليث عن مدرك عن ابن أبي (أوفى) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يزني حين يزني وهو مؤمن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زانی جب زنا کرتا ہے تو مومن نہیں ہوتا۔
١٨٥٧١ - حدثنا الحسن بن موسى عن شعبة عن فراس عن مدرك عن ابن أبي ⦗٥٣⦘ أوفى عن النبي ﵇ (١) مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
١٨٥٧٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد (الملك) (١) بن أبي سليمان عن يحيى ابن عباد عن أبان (بن) (٢) عثمان قال: تعرف الزناة (بنتن) (٣) فروجهم يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن زنا کار لوگ اپنی شرمگاہوں کی بدبو سے پہچانے جائیں گے۔
١٨٥٧٣ - حدثنا أبو معاوية عن أبي الضحى عن مسروق قال: إن (أكبر) (١) ما يصيب الناس من الذنوب الزنا، هو شهوة (و) (٢) ليس له ريح (فيوجد) (٣) ولا يكاد (تقام) (٤) حدوده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ سب سے زیادہ زنا کا شکار ہوتے ہیں وہ شہوت ہے، اس کی کوئی بو نہیں کہ پکڑا جاسکے اور حدود قائم کی جاسکیں۔
١٨٥٧٤ - حدثنا (أبو) (١) أسامة عن سفيان عن زكريا بن صهيب عن أبي صالح قال: بلغني أن أكثر ذنوب أهل الجنة (في) (٢) النساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ اہل جنت کے اکثر گناہ عورتوں میں ہیں۔
١٨٥٧٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (١) إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن ابن عباس أنه قال لغلمانه: من أراد منكم الباءة زوجناه، لا يزني منكم الزاني إلا نزع اللَّه نور الإيمان من قلبه، فإن شاء (أن) (٢) يرده رده وإن شاء أن يمنعه (منعه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلاموں سے فرمایا کہ جو تم میں سے پاکدامنی چاہتا ہے تو ہم اس کی شادی کرادیتے ہیں۔ جب تم میں سے کوئی زنا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایمان کے نور کو چھین لیتا ہے اور پھر چاہتا تو لوٹا دیتا ہے اور اگر چاہتا ہے تو نہیں لوٹاتا۔
١٨٥٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن علي بن مدرك عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: الإيمان (نزه) (١)، فمن زنى فارقه الإيمان، فمن لام نفسه (وراجع) (٢) راجعه الإيمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان گناہوں سے روکنے والا وصف ہے، جب انسان زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے دور ہوجاتا ہے اور جو نفس کو ملامت کرتا ہے تو اس کا ایمان واپس آجاتا ہے۔
١٨٥٧٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سليمان (التيمي) (١) عن أبي عثمان عن أسامة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما تركت بعدي على أمتي فتنة أضر على الرجال من النساء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنی امت کے مردوں کے لئے اپنے بعد عورتوں سے بڑا فتنہ کوئی نہیں دیکھا۔
١٨٥٧٨ - (١) حدثنا أبو معاوية عن ليث عن طاوس (عن ابن عباس) (٢) قال: لم ⦗٥٥⦘ يكن كفر من مضى إلا من قبل النساء، وهو كائن كفر من بقي من قبل النساء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے والے لوگوں کا کفر عورتوں کی وجہ سے تھا اور آئندہ بھی کفر عورتوں کی وجہ سے ہوگا۔
١٨٥٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد (عن) (١) عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه عن عائشة قالت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی زنا کرتا ہے تو اس وقت مومن نہیں ہوتا۔
١٨٥٨٠ - (حدثنا حبيب قال) (١): نا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن يزيد (بن) (٢) أبي حبيب عن (بعجة) (٣) الجهني عن أبي هريرة عن النبي ﷺ بمثله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔