کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر مہر کے بارے میں میاں بیوی کا اختلاف ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18445
١٨٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) حفص بن غياث عن الشيباني عن الشعبي قال: القول قول الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد کا قول معتبر ہوگا اور حضرت حماد اور حضرت ذکوان d فرماتے ہیں کہ اگر عورت کا قول مہر مثلی سے کم کا ہو تو عورت کا قول معتبر ہوگا۔
حدیث نمبر: 18446
١٨٤٤٦ - وقال حماد وابن ذكوان: القول قولها ما بينها وبين مهر مثلها.
حدیث نمبر: 18447
١٨٤٤٧ - حدثنا (معاذ بن معاذ) (١) عن أشعث عن الحسن قال: قال: هو قولها ما بينها وبين صداق نسائها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کا قول مہر مثلی سے کم کا ہو تو عورت کا قول معتبر ہوگا۔
حدیث نمبر: 18448
١٨٤٤٨ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اور حضرت شعبی d فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے عورت سے مہر آجل اور مہر عاجل کے بدلے نکاح کیا ، پھر آدمی نے دخول کرلیا تو گواہی اس بات پر قائم ہوگی کہ اس نے مہرا دا کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 18449
١٨٤٤٩ - وعن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قالا في رجل تزوج امرأة على عاجل (و) (١) آجل فدخل بها قالا: (بينته) (٢) أنه دفعه إليها.