کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی یہودی یا عیسائی مرد کے نکاح میں کوئی یہودی یا عیسائی عورت ہو اور وہ عورت دخول سے پہلے اسلام قبول کرلے تو کیا اسے مہر ملے گا؟
حدیث نمبر: 18434
١٨٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن قال: إذا أسلمت المرأة ولها زوج يهودي أو نصراني أو مجوسي ولم يسلم هو فلا شيء لها ما لم يدخل بها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت اسلام قبول کرے اور اس کا کوئی یہودی، عیسائی یا مجوسی خاوند ہو جس نے اسلام قبول نہ کیا ہو تو جب تک دخول نہ کرے اسے کچھ نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 18435
١٨٤٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن عبيدة عن إبراهيم قال: لا شيء لها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 18436
١٨٤٣٦ - حدثنا عباد (عن) (١) هشام عن الحسن قال: يفرق بينهما ولها (نصف) (٢) الصداق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 18437
١٨٤٣٧ - حدثنا حرمي بن عمارة بن أبي (حفصة) (١) عن شعبة عن (الهيثم) (٢) عن حماد قال: لها نصف الصداق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
حدیث نمبر: 18438
١٨٤٣٨ - حدثنا يزيد (عن) (١) حبيب عن عمرو بن هرم عن جابر بن زيد سئل عن رجل كانت تحته نصرانية فأسلمت وأبى زوجها أن يسلم قال: أرى أن يفرق بينهما، فإن كان دخل بها فلها المهر كاملًا، وإن (لم يكن) (٢) (دخل بها) (٣) ردت إليه ما أعطاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی کافر مرد کے نکاح میں عیسائی عورت ہو اور وہ عورت اسلام قبول کرلے جبکہ اس کا شوہر اسلام قبول کرنے سے انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی، اگر مرد نے دخول کیا ہے تو عورت کو پورا مہر ملے گا اور اگر دخول نہیں کیا تو عورت اسے حاصل شدہ مال واپس کرے گی۔
حدیث نمبر: 18439
١٨٤٣٩ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة أنه قال: لها نصف الصداق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کو آدھا مہر ملے گا۔