کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نفاس والی عورت کاخاوند کتنے دن تک اس سے جماع نہیں کرسکتا؟
حدیث نمبر: 18358
١٨٣٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن (الجلد) (١) بن أيوب عن معاوية ابن قرة عن عايذ بن عمرو رجل من أصحاب النبي ﷺ وكان ممن بايع تحت الشجرة أن امرأة من نسائه نفست، فرأت الطهر لعشرين ليلة فاغتسلت ثم جاءت فدخلت معه في لحافه فقال: من هذه؟ فقالت: فلانة فقال: (أو) (٢) ليس قد نفست؟ قالت: (إني) (٣) قد رأيت الطهر قال: فضربها (برجله) (٤) حتى أخرجها من اللحاف ⦗٥٥٩⦘ وقال: لا (تغريني) (٥) عن ديني حتى (يمضي) (٦) أربعون يومًا (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائذ بن عمرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ہیں، یہ ان حضرات میں سے ہیں جنہوں نے بیعت رضوان میں حصہ لیا، ان کی ایک زوجہ کو نفاس لاحق ہوا، وہ بیس دن بعد پاک ہوگئیں، لہٰذا غسل کیا اور آکر اپنے خاوند کے لحاف میں ان کے ساتھ لیٹ گئیں۔ انہوں نے پوچھا کون ہے ؟ بتایا کہ فلانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم حالت نفاس میں نہیں تھی ؟ زوجہ نے کہا کہ میں پاک ہوگئی ہوں، انہوں نے ٹانگ کے ذریعے انہیں اپنے لحاف سے نکال دیا اور فرمایا کہ مجھے میرے دین کے بارے میں دھوکہ نہ دو ، جب تک چالیس دن نہ گذر جائیں مت آنا۔
حدیث نمبر: 18359
١٨٣٥٩ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن عن عثمان بن أبي (العاص) (١) أنه قال لنسائه: لا تشرفن لي دون أربعين ليلة في (النفاس) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابی العاص رحمہ اللہ نے اپنے بیویوں سے فرمایا کہ نفاس کے دوران چالیس دن سے پہلے میری طرف مت جھانکنا۔
حدیث نمبر: 18360
١٨٣٦٠ - حدثنا وكيع عن إسرائيل (١) (عن) (٢) جابر عن عبد اللَّه بن يسار (عن عمر) (٣) قال: تجلس النفساء (أربعين) (٤) يومًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نفساء چالیس دن تک شوہر سے دور رہے گی۔
حدیث نمبر: 18361
١٨٣٦١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن الحسن قال: (تربص) (١) (النفساء) (٢) أربعين يومًا ثم تغتسل (و) (٣) تصلي.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفساء چالیس دن رکے گی ، پھر غسل کرکے نماز پڑھے گی۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو مہینے رکے گی پھر وہ مستحاضہ کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 18362
١٨٣٦٢ - وقال الشعبي: (تربص) (١) شهرين ثم هي بمنزلة المستحاضة.
حدیث نمبر: 18363
١٨٣٦٣ - حدثنا أسباط بن محمد عن أشعث عن الحسن قال: لا تجلس النفساء أكثر من أربعين (ليلة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفساء چالیس دن سے زیادہ نہیں رکے گی۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی عادت کے بقدر رکے گی اور چالیس دن سے زیادہ نہیں رکے گی۔
حدیث نمبر: 18364
١٨٣٦٤ - (و) (١) قال عطاء: (تجلس) (٢) عادتها التي اعتادت ولا تجلس أكثر من أربعين ليلة.
حدیث نمبر: 18365
١٨٣٦٥ - حدثنا وكيع عن (أبي) (١) عوانة عن أبي (بشر) (٢) عن (٣) يوسف بن ماهك عن ابن عباس قال: تجلس النفساء نحوًا من أربعين يومًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نفاس والی عورت چالیس دن تک رکے گی۔
حدیث نمبر: 18366
١٨٣٦٦ - حدثنا أبو أسامة عن زهير قال: نا علي بن عبد الأعلى عن أبي سهل عن مسة عن أم سلمة قالت: (١) كانت النفساء (تقعد) (٢) على عهد رسول اللَّه ﷺ أربعين يومًا وكنا نلطخ على وجوهنا الورس من الكلف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نفساء چالیس دن تک رکا کرتی تھیں اور ہم اپنے چہروں پر مٹیالی سرخی کی وجہ سے ورس نامی زرد بوٹی لگایا کرتی تھیں۔