١٨٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن مغيرة عن الشعبي وحماد أنهما كانا لا يريان بأسًا للنفساء أن تزوج حتى تطهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ کے نزدیک نفاس والی عورت کے لئے پاک ہونے سے پہلے نکاح کرنا درست ہے۔
١٨٣٥٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن مغيرة عن الشعبي و (المسيب) (١) بن رافع أنهما [قالا في] (٢) (٣) (النفساء) (٤): (لا) (٥) تزوج حتى يذهب الدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت مسیب بن رافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفاس والی عورت خون بند ہونے سے پہلے نکاح نہیں کرسکتی۔
١٨٣٥٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم وحماد قالا في النفساء: تزوج وإن لم يذهب الدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ شادی کرسکتی ہے خواہ خون بند نہ ہو۔
١٨٣٥٧ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن قال: كان يكرهه فإن تزوجت فالنكاح جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ نفاس والی عورت کے نکاح کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے، لیکن اگر کرلے تو نکاح جائز ہے۔