١٨٣٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن مختار بن (منيح) (١) (عن) (٢) قتادة عن عروة بن الزبير قال: (قال) (٣) رسول اللَّه ﷺ: "تخيروا (لنطفكم) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنی اولاد کے لئے اچھے رشتے تلاش کرو۔
١٨٣٣٩ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان (١) عن منصور عن إبراهيم أن علقمة كان إذا تزوج تزوج إلى أدنى (بيتة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ جب شادی کرتے تو اچھے گھر میں شادی کرتے۔
١٨٣٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن (١) موسى بن عبيدة (الربذي) (٢) عن عبد اللَّه بن (خراش) (٣) قال: رأيت أبا ذر بالربذة وعنده (امرأة) (٤) له سحماء أو (سحناء) (٥) قال: (و) (٦) هو في مظلة له سوداء قال: فقيل له: يا أبا ذر! لو اتخذت (امرأة) (٧) (٨) أرفع من هذه! فقال: واللَّه لأن اتخذ امرأة تضعني أحب إلي من أن أتخذ امرأة ترفعني (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن خراش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ربذہ میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کی اہلیہ کا رنگ کالا تھا، یا فرمایا کہ وہ بھوک اور کمزوری کی وجہ سے بےحال تھیں، اپنے ایک کالے رنگ کے چھپڑ میں تھے، ان سے کہا گیا کہ اے ابوذر ! اگر آپ اس سے بہتر عورت سے شادی کرلیتے تو اچھا ہوتا ! انہوں نے فرمایا کہ میں ایسی عورت سے شادی کروں جو میرے نام وشہرت میں کمی کا سبب بنے مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایسی عورت سے شادی کروں جو میرے نام ونمود میں زیادتی کا سبب بنے۔
١٨٣٤١ - حدثنا مروان بن معاوية عن ابن (عون) (١) عن محمد بن سيرين قال: قال عمر بن الخطاب: ما بقي من أخلاق الجاهلية شيء، إلا أني لست أبالي أي المسلمين (نكحت) (٢) (و) (٣) أيهم أنكحت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ میں جاہلیت کی کوئی عادت باقی نہیں رہی سوائے اس کے کہ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میں کس مسلمان سے شادی کررہاہوں اور کس سے شادی کر ارہا ہوں۔
١٨٣٤٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان علقمة يخطب إلى من هو أسفل منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ اپنے سے کم تر لوگوں کو نکاح کا پیغام بھجواتے تھے۔
١٨٣٤٣ - حدثنا يزيد قال: (حدثنا) (١) (هشام) (٢) عن محمد بن سيرين أن رجلًا تزوج (ابنة) (٣) (عبدٍ) (٤) خياط فولدت عنده غلامًا فانتفى منه فقال له شريح (٥): الذي دلك على أن تزوج بنت عبد خياط وأنت رجل من العرب في شرف من العطاء؟ و (هو) (٦) الذي دعاك إلى أن تنتفي منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک غلام درزی کی بیٹی سے شادی کی۔ اس کے ہاں ایک لڑکاپیدا ہوا لیکن اس آدمی نے اسے اپنا بچہ ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا کہ جس چیز نے تجھے ایک غلام درزی کی بیٹی سے شادی پر مجبور کیا حالانکہ تو عرب کا ایک معزز آدمی ہے اسی چیز نے تجھے اس سے ہونے والے بچے کو اپنا بیٹا ماننے سے انکار کرنے پر ابھارا ہے۔ (یعنی شیطان نے تیرے دل میں وسوسے ڈالے ہیں)