کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جب لعان کرنے والے مرد وعورت کے درمیان جدائی کرادی گئی تو وہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے اور آدمی اس عورت سے شادی نہیں کرسکتا
١٨٢٧٠ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) سفيان (بن) (٣) عيينة عن ⦗٥٣٥⦘ الزهري عن سهل بن سعد أن النبي ﷺ فرق بين المتلاعنين وقال: "حسابكما على اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے لعان کرنے والے خاوند بیوی کے درمیان جدائی کرائی اور فرمایا کہ تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے۔
١٨٢٧١ - حدثنا يزيد (بن هارون) (١) عن عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي ﷺ فرق بينهما، وقضى أن لا (قوت) (٢) (لها عليه) (٣) ولا نفقة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی اور فیصلہ فرمایا کہ مرد پر عورت کے لئے نہ تو کھانے کا انتظام ہوگا اور نہ نفقہ۔
١٨٢٧٢ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن عمر قال: المتلاعنان يفرق بينهما ولا يجتمعان أبدًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور وہ دونوں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
١٨٢٧٣ - حدثنا وكيع عن قيس عن عاصم عن زر عن علي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد وعورت کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
١٨٢٧٤ - وعن أبي وائل عن عبد اللَّه (قالا) (١): لا يجتمعا (ن) (٢) المتلاعنان أبدًا (٣).
١٨٢٧٥ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن نافع عن ابن عمر قال: المتلاعنان لا يجتمعان في مصر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد وعورت کبھی ایک شہر میں جمع نہیں ہوسکتے۔
١٨٢٧٦ - حدثنا حفص قال: سألت (عمرًا) (١) فقال: كان الحسن يفرق بينهما فلا يجتمعان أبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ لعان کرنے والے مرد وعورت کے درمیان جدائی کرادیتے تھے اور ان کے پھر کبھی جمع نہ ہونے کے قائل تھے۔
١٨٢٧٧ - [حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا لاعن الرجل امرأته فرق بينهما فلا يجتمعان أبدًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مرد اپنی بیوی سے لعان کرے تو ان کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور وہ دونوں کبھی جمع نہیں ہوں گے۔
١٨٢٧٨ - حدثنا يزيد عن حبيب عن عمرو بن هرم عن جابر بن زيد قال: لا يجتمعان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد وعورت دوبارہ کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
١٨٢٧٩ - حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه قال: لا يجتمعان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد وعورت دوبارہ کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
١٨٢٨٠ - حدثنا [الفضل بن دكين عن حسن عن ليث عن عطاء قال: لا يجتمعان] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد وعورت دوبارہ کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
١٨٢٨١ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الشعبي قال: المتلاعنان لا يجتمعان] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد وعورت دوبارہ کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
١٨٢٨٢ - حدثنا ابن إدريس عن ابن إسحاق عن ابن شهاب قال: مضت السنة أنهما إذا فرق بينهما لم يجتمعا أبدًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شرعی طریقہ یہی رہا ہے کہ لعان کرنے والے مرد وعورت دوبارہ کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
١٨٢٨٣ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال في رجل لاعن ثم أكذب نفسه في العدة قال: إذا لاعن انقطع ما بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ نے ایک ایسے آدمی کے بارے میں فیصلہ فرمایا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا پھر عدت میں اپنی بات سے رجوع کرلیا۔ انہوں نے فرمایا کہ جب لعان کیا تو ان دونوں کے درمیان ہر طرح کا رشتہ ختم ہوگیا۔