کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک دودھ اترنے کا سبب بننے والا مرد شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا
حدیث نمبر: 18261
١٨٢٦١ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) ابن إدريس عن محمد بن (عمرو) (٢) عن أبي عبيدة بن عبد اللَّه بن زمعة عن أمه زينب ابنة أبي سلمة قالت: كانت أسماء أرضعتني، وكان (٣) الزبير يدخل علي وأنا أمتشط ويأخذ القرن من قروني ويقول: أقبلي عليّ (فحدثني -بربي-) (٤) (أنه) (٥) ⦗٥٣٣⦘ (أبي) (٦) و (أنَّ ما) (٧) ولد إخوتي، فلما كان (يوم) (٨) الحرة أرسل عبد اللَّه بن الزبير يخطب ابنتي على حمزة (بن) (٩) الزبير، وحمزة ومصعب للكلبية أرسلت إليه: هل تصلح له؟ فأرسل إلي: إنما تريدين منعي بنتك وأنا أخوك وما ولدت أسماء (فهم) (١٠) إخوتك، (وأما) (١١) ولد الزبير لغير أسماء فليس لك بإخوة فأرسلي فسلي، فأرسلت فسألت وأصحاب النبي ﷺ متوافرون وأمهات المؤمنين فقالوا: إن الرضاعة من قبل الرجال لا تحرم شيئًا (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے مجھے دودھ پلایا تھا۔ چناچہ (ان کے خاوند) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ میرے پاس اس وقت تشریف لے آتے جب میں کنگھی کررہی ہوتی اور میری چٹیا کو پکڑ لیتے، اور وہ مجھے اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے مجھ سے باتیں کرتے اور وہ اپنے بیٹوں کو میرا بھائی سمجھتے۔ یومِ حرہ کو ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حمزہ بن زبیر رحمہ اللہ کے لئے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا۔ حمزہ اور مصعب (حضرت زبیر کے دو بیٹے ، حضرت اسماء کے بیٹے نہ تھے بلکہ ) بنو کلب کی عورت سے تھے۔ میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیغام دیا کہ کیا میری بیٹی کا نکاح ان سے ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم میری طرف سے بھیجے گئے رشتے کا انکار کررہی ہو حالانکہ میں تمہارا بھائی ہو ؟ جو بچے حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں اور جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی کسی اور بیوی سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی نہیں ہیں، تم یہ مسئلہ کسی اور سے پوچھ سکتی ہو۔ اس وقت بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م اور امہات المومنین g بقیدِ حیات تھے، میں نے ان سے سوال کیا تو سب نے فرمایا کہ مردوں کی طرف سے آنے والی رضاعت کسی چیز کو حرام نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 18262
١٨٢٦٢ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن (عمرو) (١) عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط قال: سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن وسعيد بن المسيب وعطاء (وسليمان) (٢) ابني يسار عن الرضاعة من قبل الرجال فقالوا: (لا) (٣) تحرم شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عبد اللہ بن قسیط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سعید بن مسیب، عطاء اور حضرت سلیمان بن یسار s سے مردوں کی طرف سے آنے والی رضاعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کسی چیز کو حرام نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 18263
١٨٢٦٣ - حدثنا ابن علية عن محمد بن عمرو قال: حدثني (ابن لرافع) (١) بن خديج أن رافع بن خديج زوج ابنته ابن أخيه رفاعة بن خديج وقد أرضعتها أم ولد ⦗٥٣٤⦘ سوى أم (ابنه) (٢) الذي أنكحها إياه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک شخص بیان کرتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھائی رفاعہ بن خدیج کے بیٹے سے کرائی، حالانکہ اس لڑکی کو ایک ایسی عورت نے دودھ پلایا تھا جو اس لڑکے کی ماں تو نہ تھی لیکن حضرت رفاعہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کی ایسی باندی تھی جس سے ان کی اولاد بھی ہوئی تھی۔ یعنی اس باندی کے دودھ اترنے کا سبب حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 18264
١٨٢٦٤ - حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دودھ اترنے کا سبب بننا مرد کو رضاعی باپ نہیں بناتا۔
حدیث نمبر: 18265
١٨٢٦٥ - وعن جابر عن عامر أنهما كانا لا يريان لبن الفحل شيئًا.
حدیث نمبر: 18266
١٨٢٦٦ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة أنه لم ير بلبن الفحل بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دودھ اترنے کا سبب بننا مرد کو رضاعی باپ نہیں بناتا۔
حدیث نمبر: 18267
١٨٢٦٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: أول ما سمعت بلبن الفحل ونحن بمكة فجعل أياس بن معاوية يقول: وما بأس هذا ومن (يكره) (١) هذا؟.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے پہلی مرتبہ مکہ میں دودھ اترنے کا سبب بننے والی مرد کی حرمت کے بارے میں سنا، تو اس موقع پرایاس بن معاویہ رحمہ اللہ نے کہنا شروع کیا کہ اس میں کیا حرج ہے ؟ اور اسے کون مکروہ سمجھتا ہے۔
حدیث نمبر: 18268
١٨٢٦٨ - حدثنا هشيم عن حجاج عن (الحكم) (١) عن إبراهيم أنه كان لا يرى لبن الفحل شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دودھ اترنے کا سبب بننا مرد کو رضاعی باپ نہیں بناتا۔
حدیث نمبر: 18269
١٨٢٦٩ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن محمد بن راشد عن مكحول أنه كان لا يرى بلبن الفحل بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دودھ اترنے کا سبب بننا مرد کو رضاعی باپ نہیں بناتا۔