کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک زانی پر عقر (فرج مغصوب کی دیت) نہیں ہے
حدیث نمبر: 18202
١٨٢٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) وكيع عن شعبة عن جابر عن الشعبي قال: ليس على (زان) (٢) عقر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زانی پر عقر (فرج مغصوب کی دیت) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18203
١٨٢٠٣ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن عبد رجل استكره حرة قالا: لا عقر عليه، لا يضرك حرة كانت أو أمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد d سے اس غلام کے بارے میں سوال کیا جو کسی آزاد عورت سے زبردستی زنا کرے، کہ اس پر عقر ہوگا یا نہیں ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس پر عقر نہیں ہے خواہ عورت آزاد ہو یا باندی۔
حدیث نمبر: 18204
١٨٢٠٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت زہری d فرماتے ہیں کہ اگر عورت باکرہ ہو تو عقر اور حد دونوں لازم ہوں گے اور اگر ثیبہ ہو تو صرف حد لگے گی۔
حدیث نمبر: 18205
١٨٢٠٥ - وعن رجل عن الزهري قالا: إن كانت بكرًا فالعقر والحد، وإن كانت ثيبًا فالحد.
حدیث نمبر: 18206
١٨٢٠٦ - حدثنا وكيع عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم (قال) (١): لا يجتمع حد و (٢) صداق على زان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زانی پر حد اور تاوان جمع نہیں ہوسکتے۔
حدیث نمبر: 18207
١٨٢٠٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم قال: إذا (أوقعت) (١) عليه الحد لم (آخذ) (٢) منه العقر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر حد جاری ہوجائے تو تاوان نہیں لیا جائے گا۔