١٨١٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) هشيم عن يونس عن الحسن في الرجل يقع على مكاتبته قال: (يحسب) (٢) لها صداق مثلها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی مکاتبہ باندی سے جماع کیا توا سے مہرمثلی ادا کرے گا۔
١٨١٩٧ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن مطرف عن الحكم قال: إذا غشي مكاتبته فهي أم ولده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مکاتبہ باندی سے جماع کیا تو وہ ام ولد بن جائے گی۔
١٨١٩٨ - [حدثنا ابن مهدي (١) عن الدستوائي عن (قتادة) (٢) في رجل (وطيء) (٣) مكاتبته قال] (٤): إن كان استكرهها فعليه العقر (٥) والحد وإن كانت طاوعته فعليه الحد وليس عليه (العقر) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی مکاتبہ باندی سے جماع کیا، اگر زبردستی کیا تو حد بھی لگے گی عقر (فرج مغصوب کی دیت) بھی دینا ہوگی۔ اور اگر مکاتبہ کی خوشی سے کیا تو حد تو لگے گی لیکن عقر نہیں دے گا۔
١٨١٩٩ - حدثنا ابن إدريس قال: كان ابن أبي ليلى يقول: تعود المكاتبة فتكون أم (ولد) (١) يعني إذا وطئها فولدت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مکاتبہ باندی سے وطی کی اور اس کا بچہ ہوگیا تو وہ ام ولد بن جائے گی۔
١٨٢٠٠ - حدثنا يحيى بن آدم عن حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد عن سعيد ابن المسيب (في الرجل) (١) يكاتب (امرأته) (٢) ويشترط عليها في المكاتبة أن يطأها قال: لا بأس به، له شرطه وله أن يطأها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی باندی کو اس شرط پر مکاتبہ بنائے کہ اس سے وطی کرتا رہے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں، شرط برقرار رہے گی اور وہ وطی کرسکتا ہے۔
١٨٢٠١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل (بن) (١) أبي خالد عن الشعبي في رجل ⦗٥١٩⦘ وطئ مكاتبته فقال: مارق منها (مهر) (٢) لما أعتق منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے مکاتبہ باندی سے وطی کی تو اس کی باقی ماندہ غلامی اس کی آزادی کا مہر بن جائے گی۔