کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی اسلام قبول کرے اور اس کے نکاح میں دس عورتیں ہوں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18066
١٨٠٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا بن علية ومروان بن معاوية عن معمر عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال: أسلم غيلان بن مسلم الثقفي (وتحته) (١) (عشر) (٢) نسوة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "خذ منهن أربعًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی رحمہ اللہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ان میں سے چار رکھ لو۔
حدیث نمبر: 18067
١٨٠٦٧ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن في الرجل يسلم وعنده عشر نسوة أو ست قال: (يمسك) (١) منهن أربعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اسلام قبول کرے اور اس کے نکاح میں دس یا چھ عورتیں ہوں تو وہ ان میں سے چار رکھ لے۔
حدیث نمبر: 18068
١٨٠٦٨ - حدثنا (١) بكر بن عبد الرحمن قال: (نا) (٢) عيسى بن المختار عن ابن أبي ليلى عن (حميضة) (٣) بن (الشمردل) (٤) عن قيس بن الحارث الأسدي أنه أسلم وعنده ثماني نسوة فأمره رسول اللَّه ﷺ أن يختار منهن أربعًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمیضہ بن شمردل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن حارث رحمہ اللہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں حضور ﷺ نے انہیں چار کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔