کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: رضاعت کا بیان: جن حضرات کے نزدیک ایک یا دو چسکیاں لینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 17893
١٧٨٩٣ - حدثنا عبدة (١) عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن أبي الخليل عن عبد اللَّه بن الحارث عن أم الفضل قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (تحرم) (٢) (الرضعة) (٣) والرضعتان والمصة والمصتان" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امّ فضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک یا دو مرتبہ دودھ پینے سے یا ایک یا دو چسکیوں سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 17894
١٧٨٩٤ - حدثنا عبدة وابن نمير عن هشام عن أبيه عن ابن الزبير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تحرم المصة و (١) المصتان" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک یادوچسکیوں سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 17895
١٧٨٩٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أشعث (بن) (١) أبي الشعثاء (عن) (٢) أبيه عن مسروق عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما الرضاعة من المجاعة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رضاعت تب ثابت ہوتی ہے جب خوب پیٹ بھر کر بچہ دودھ پیئے۔
حدیث نمبر: 17896
١٧٨٩٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس عن (الغيرة) (١) بن شعبة قال: لا تحرم (العيفة ولا الغيقتان) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک یا دو مرتبہ پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 17897
١٧٨٩٧ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن أبي الزبير قال: سألت ابن الزبير عن ⦗٤٣٤⦘ الرضاع فقال: (لا) (١) تحرم الرضعة ولا الرضعتان و (لا) (٢) الثلاث (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ ما سے رضاعت کے بارے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک، دو یا تین چسکیوں سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 17898
١٧٨٩٨ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن حنظلة عن (سالم) (١) عن زيد قال: لا تحرم الرضعة ولا الرضعتان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید فرماتے ہیں کہ ایک یا دو چسکیوں سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 17899
١٧٨٩٩ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) عن سعيد عن قتادة عن سليمان بن (يسار) (٢) قال: يحرم منه ما فتق الأمعاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حرمت اتنے دودھ سے ثابت ہوتی ہے جس سے آنتیں سیراب ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 17900
١٧٩٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل عن أبي عمرو الشيباني قال: قال عبد اللَّه: إنما يحرم من الرضاع ما أنبت اللحم و (أنشز) (١) العظم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اتنا دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس سے گوشت بنے اور ہڈی توانا ہو۔
حدیث نمبر: 17901
١٧٩٠١ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: قال أبو موسى: لا يحرم الرضاع إلا ما أنبت اللحم والدم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اتنے دودھ سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس سے گوشت اور خون بنے۔
حدیث نمبر: 17902
١٧٩٠٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع قال: (كانت) (١) عائشة إذا أرادت أن يدخل عليها أحد أمرت به فأرضع، فأمرت أم كلثوم أن ترضع سالمًا عشر رضعات فأرضعته ثلاثًا فمرضت فكان لا يدخل عليها، وأمرت فاطمة بنت عمر أن ترضع عاصم بن (سعد) (٢) مولى لهم فأرضعته عشر رضعات فكان يدخل عليها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جب کسی بچے کے بارے میں یہ ارادہ ہوتا کہ وہ بڑا ہو کر ان سے ملاقات کے لئے آسکے تو اپنی کسی عزیزہ خاتون کو حکم دیتی کہ وہ اسے دودھ پلا دیں۔ (تاکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی رضاعی خالہ یا پھوپھی بن جائیں) اس سلسلے میں انہوں نے (اپنی بہن) حضرت ام کلثوم کو حکم دیا کہ وہ حضرت سالم کو (جبکہ وہ بچے تھے) دس چسکیاں پلائیں، (تاکہ سالم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے بن جائیں) انہوں نے انہیں تین چسکیاں پلائیں اور وہ بیمار ہوگئیں، لہٰذا وہ بڑے ہوکر ان کے پاس نہیں آتے تھے۔ اسی طرح (حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ) نے فاطمہ بنت عمر کو حکم دیا کہ عاصم ابن سعد کو (جبکہ وہ بچے تھے) دس چسکیاں پلائیں (تاکہ عاصم بن سعد ان کے رضاعی بھانجے بن جائیں) چناچہ انہوں نے اس طرح کیا تو وہ ان کے پاس آیا کرتے تھے۔