کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی غلام آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرے اور مہر دے اور پھرآقاکو علم ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17697
١٧٦٩٧ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن عبد اللَّه بن قيس أن غلامًا لأبي موسى وكان صاحب إبله تزوج أمة لبني جعدة وساق إليها خمس ذود فحُدّث أبو موسى فأرسل إليهم: أرسلوا إلي (غلامي) (١) ومالي، فقالوا: أما الغلام فغلامك، وأما المال فقد استحل به فرج (صاحبتنا) (٢)، فاختصموا إلى عثمان بن عفان فقضى لهم عثمان بخمس ما أستحل به فرج صاحبتهم وردّ على أبي موسى (ثلاثة) (٣) (أخماسه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا، جو ان کے اونٹوں کا نگران بھی تھا۔ اس نے بنو جعدہ کی ایک باندی سے شادی کی اور اسے مہر میں پانچ اونٹ دیئے۔ جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے بنو جعدہ کو پیغام بھجوایا کہ میرا غلام اور میرا مال مجھے واپس کرو۔ انہوں نے کہا کہ غلام تو آپ کا ہی ہے البتہ وہ مال اب عورت کا مہر بن گیا۔ یہ مقدمہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ پورے مال کے دو خمس تو عورت کا مہر ہوں گے اور تین خمس ابو موسیٰ اشعری کو دے دیئے جائیں۔
حدیث نمبر: 17698
١٧٦٩٨ - حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن ابن سيرين قال: تزوج عبد لأبي موسى في إمرة عمر على خمس قلائص فرفع ذلك إلى عمر فجعل للمرأة قلوصين ولأبي موسى ثلاث قلاص (أو أعطاها) (١) ثلاث (قلائص) (٢)] (٣) ورد على أبي موسى قلوصين قال: أراه تزوج بغير إذنه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ایک غلام نے پانچ اونٹنیوں کے عوض شادی کی۔ پھر یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے تین اونٹنیاں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو دینے کا حکم دیا یا عورت کا مہر تین اونٹنیوں کو بنایا اور دو اونٹنیاں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو واپس کیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اس غلام نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا۔
حدیث نمبر: 17699
١٧٦٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن تمام عن رجل عن ابن عمر قال: لا صداق لها، هي (أباحت) (١) فرجها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسی عورت کو بالکل مہر نہیں ملے گا، اس نے خود اپنے فرج کو حلال کیا ہے۔
حدیث نمبر: 17700
١٧٧٠٠ - حدثنا [وكيع عن سفيان عن فراس عن عامر قال: (يؤخذ) (١) منها ما (استهلكت) (٢) وما لم تستهلك] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ایسی عورت سے وہ تمام مہر واپس لیا جائے گا جو اس نے خرچ کردیا اور جو اس نے خرچ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 17701
١٧٧٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: يؤخذ منها ما لم تستهلك، فأما ما استهلكت فلا شيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایسی عورت سے وہ مال واپس لیا جائے گا جو اس نے خرچ نہ کیا ہو اور جو خرچ کردیا اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17702
١٧٧٠٢ - حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن العبد يتزوج المرأة بغير إذن مواليه، قال (١): يفرق بينهما ولا صداق لها، يؤخذ منها ما أخذت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کسی غلام نے کسی عورت سے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرلی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی، عورت کو مہر نہیں ملے گا اور جو کچھ دیا گیا ہے واپس لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17703
١٧٧٠٣ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن في مملوك (١) تزوج بغير إذن سيده [فدخل بها قال: لها ما أخذت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرلی اور عورت سے دخول بھی کرلیا تو جو مہر عورت کو دے چکا ہے وہ عورت کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 17704
١٧٧٠٤ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في العبد إذا تزوج بغير إذن سيده] (١) فليس بنكاح وليس لها شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو شادی نہیں ہوئی اور عورت کو مہر بھی نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 17705
١٧٧٠٥ - [حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن في عبد تزوج بغير إذن مولاه وساق صداقا، قال: إن كان دخل بها فلها الصداق، (وإن) (١) لم يدخل بها أخذ المولى الصداق] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی اور عورت کو مہر بھی دے دیا تو اگر دخول کرچکا ہے تو عورت کو پورا مہر ملے گا اور اگر دخول نہ کیا ہو تو مہر کی رقم آقا کو حاصل ہوگی۔