کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک شخص کے نکاح میںکوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی توکیا خاوند اس سے رجوع کرسکتاہے؟
حدیث نمبر: 17565
١٧٥٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) هشيم عن خالد عن أبي معشر عن إبراهيم أن عليًا قال: ليس بزوج يعني السيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا خاوند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17565
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17565، ترقيم محمد عوامة 16995)
حدیث نمبر: 17566
١٧٥٦٦ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم قال: سمعت الشعبي يقول: ليس بزوج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ آقا خاوند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17566
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17566، ترقيم محمد عوامة 16996)
حدیث نمبر: 17567
١٧٥٦٧ - [حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول: ليس بزوج] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ آقا خاوند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17567
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17567، ترقيم محمد عوامة 16997)
حدیث نمبر: 17568
١٧٥٦٨ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن عن زيد قال: هو زوج إذا لم يرد الإحلال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید فرماتے ہیں کہ آقا خاوند کے حکم میں ہے اگر اس کا حلال کرنے کا ارادہ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17568
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17568، ترقيم محمد عوامة 16998)
حدیث نمبر: 17569
١٧٥٦٩ - حدثنا هشيم عن خالد عن مروان الأصفر عن أبي رافع أن عثمان ابن عفان سئل عن ذلك وعنده علي وزبد بن ثابت، قال: فرخص في ذلك عثمان وزيد، قالا: هو زوج، فقام علي مغضبًا كارهًا لما قالا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا اس وقت ان کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ما بھی وہاں موجود تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں رخصت دی اور دونوں نے فرمایا کہ وہ زوج ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی اس بات پر ناگواری کی وجہ سے وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17569
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17569، ترقيم محمد عوامة 16999)
حدیث نمبر: 17570
١٧٥٧٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء قال: هو زوج (يقول) (١) السيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آقا خاوند ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17570
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17570، ترقيم محمد عوامة 17000)
حدیث نمبر: 17571
١٧٥٧١ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت حمادًا عن رجل تحته أمة فطلقها تطليقتين ثم يغشاها سيدها، هل ترجع إلى زوجها؟ فكره ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کو دو طلاقیں دے دے۔ پھر اس باندی کا آقا اس سے وطی کرے تو کیا وہ واپس اپنے خاوند کے پاس جاسکتی ہے۔ انہوں نے اسے ناپسند فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17571، ترقيم محمد عوامة 17001)
حدیث نمبر: 17572
١٧٥٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن (عمرو) (١) بن هرم قال: سئل جابر بن زيد عن رجل كانت له امرأة مملوكة فطلقها ثم أن سيدها تسراها ثم تركها، ⦗٣٦٣⦘ أتحل (لزوجها) (٢) الذي طلقها (أن يراجعها) (٣)؟ قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کو طلاق دے دے پھر اس کا آقا اس سے جماع کرے تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا وہ عورت اب پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17572، ترقيم محمد عوامة 17002)
حدیث نمبر: 17573
١٧٥٧٣ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن (أن) (١) زيد بن ثابت والزبير بن العوام! كانا لا يريان بأسًا إذا طلق الرجل امرأته وهي أمة تطليقتين ثم غشيها سيدها (غشيانا) (٢) لا يريد بذلك مخادعة ولا إحلالًا أن ترجع إلى زوجها (بخطبة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت اور حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ایسی بیوی کو دو طلاقیں دے دے جو باندی ہو پھر اس کا آقا اس سے جماع کرلے اور اس سے مقصود کوئی دھوکہ وغیرہ نہ ہو تو وہ اپنے پہلے خاوند کے پاس نکاح کے ذریعے واپس جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17573
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17573، ترقيم محمد عوامة 17003)
حدیث نمبر: 17574
١٧٥٧٤ - حدثنا عبدة عن سعيد عن أبي معشر (عن إبراهيم) (١) في الأمة يطلقها زوجها تطليقتين ثم يغشاها سيدها: إنها لا تحل لزوجها ﴿حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [البقرة: ٢٣٠].
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کو دو طلاقیں دے دے۔ پھر اس باندی کا آقا اس سے وطی کرے تو وہ پہلے خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17574
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17574، ترقيم محمد عوامة 17004)
حدیث نمبر: 17575
١٧٥٧٥ - حدثنا حفص (عن ليث) (١) عن طاوس قال: إذا طلقها تطليقتين ثم وطئها السيد تزوجها إن شاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی باندی بیوی کو دو طلاقیں دیں پھر اس کے آقا نے اس سے جماع کرلیا تو وہ اس سے شادی کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17575
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17575، ترقيم محمد عوامة 17005)