کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: استبراء کے دوران مالک باندی کی شرمگاہ کے علاوہ کہیں سے تلذذ حاصل کرسکتا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 17484
١٧٤٨٤ - حدثنا ابن علية (قال) (١): (سئل) (٢) يونس عن الرجل يشتري الأمة فيستبرئها، يصيب منها القبلة والمباشرة؟ (قال) (٣): ابن سيرين يكره أن يصيب منها ما يحرم عليه من غيرها حتى يستبرئها.
مولانا محمد اویس سرور
یونس سے سوال کیا گیا کہ استبراء کے دوران مالک باندی کی شرمگاہ کے علاوہ کہیں سے تلذذ حاصل کرسکتا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن سیرین استبراء کے دوران ہر طرح کے تلذذ کو مکروہ خیال فرماتے تھے جبکہ حسن بوسہ لینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 17485
١٧٤٨٥ - ويذكر عن الحسن أنه كان لا يرى بالقبلة بأسًا.
حدیث نمبر: 17486
١٧٤٨٦ - حدثنا وكيع عن علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة في الرجل يشتري الجارية الصغيرة وهي أصغر من ذلك قال: (لا) (١) بأس أن يمسها قبل أن يستبرئها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کوئی بہت چھوٹی باندی خریدی تو استبراء سے پہلے اسے چھونے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 17487
١٧٤٨٧ - حدثنا (زيد بن حباب) (١) عن حماد بن سلمة عن أياس بن معاوية في رجل اشترى جارية صغيرة لا يجامع مثلها؟ قال: لا بأس أن يطأها ولا يستبرئها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے بہت چھوٹی باندی خریدی جس عمر کی باندیوں سے جماع نہیں کیا جاتا تو مالک استبراء کے بغیر اس سے جماع کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 17488
١٧٤٨٨ - حدثنا عبد الأعلى عن (سعيد) (١) عن قتادة (أنه) (٢) كره أن يقبلها (حتى يستبرئها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ نے بوسہ لینے تک استبراء کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 17489
١٧٤٨٩ - حدثنا زيد بن حباب عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أيوب (اللخمي) (١) قال: وقعت لابن عمر جارية يوم جلولاء في سهمه، كأن في عنقها إبريق فضة قا (ل) (٢): فما ملك نفسه (أن جعل) (٣) يقبلها والناس ينظرون (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب لخمی فرماتے ہیں کہ جلولاء کی جنگ میں ایک باندی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حصہ میں آئی اس کی گردن چاندی کی صراحی جیسی تھی۔ انہوں نے اس کا بوسہ لیا۔