کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی دوسرے کا نکاح کرادے اور دولہا بعد میں انکار کرے تو مہر کی کیا صورت ہوگی؟
حدیث نمبر: 17395
١٧٣٩٥ - (حدثنا أبو بكر قال:) (١) حدثنا (عبد الأعلى) (٢) عن معمر عن الزهري قال: إذا خطب الرجل على الرجل فزوجه فأنكر عليه الآخر، فحقها ثابت: على هذا نصف الصداق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے دوسرے کی طرف سے نکاح کا پیغام بھجوایا اور نکاح کرادیا، جبکہ بعد میں دول ہے نے انکار کردیا تو عورت کا حق نکاح کرانے والے پر ثابت ہوگا اور نصف مہردینا پڑے گا۔
حدیث نمبر: 17396
١٧٣٩٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر في رجل كتب إلى أبيه أو إلى مولاه أدى يزوجه فزوجه فجاء فأنكر عليه، قال الشعبي: (إن) (١) أجاز الزوج النكاح فهو جائز وإدى لم يجز (هـ) (٢) فليس بشيء وليس على واحد منهما صداق إن لم يكن دخل بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنے باپ یا مولی کو خط لکھا کہ اس کی شادی کرادے۔ انہوں نے شادی کرادی، لیکن اس نے انکار کردیا تو اس بارے میں حضرت شعبی فرماتے تھے کہ اگر خاوند نکاح کو باقی رکھے تو ٹھیک ورنہ اس نکاح کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور شرعی ملاقات سے پہلے کسی پر مہر بھی واجب نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 17397
١٧٣٩٧ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء في رجل زوج أباه وهو غائب ولم يرض الأب قال: الصداق على الابن فإن زوج الأب الابن فلم يرض الابن فالصداق على الأب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنے باپ کا نکاح کرادیا حالانکہ باپ موجود نہیں تھا ، پھر اگر باپ راضی نہ ہوا تو مہر بیٹے پر لازم ہوگا اور اگر باپ نے بیٹے کا نکاح کرایا اور بیٹا راضی نہ ہوا تو مہر باپ پر لازم ہوگا۔