کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر نامرد ایک مرتبہ جماع کرنے کے بعد اس پر قادر نہ رہے تو کیا حکم ہے؟
١٧٣٢٩ - حدثنا أبو بكر عن ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: إذا وصل إليها مرة لم يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے ایک مرتبہ جماع کرلیا تو دونوں کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی۔
١٧٣٣٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا قدر عليها مرة فهي امرأته أبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جب آدمی ایک مرتبہ جماع پر قدرت پالے تو وہ ہمیشہ کے لئے اس کی بیوی ہے۔
١٧٣٣١ - [حدثنا عمر عن ابن جريج عن ابن طاووس عن أبيه قال: إذا أصابها مرة فلا كلام لها ولا خصومة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب وہ ایک مرتبہ جماع کرلے تو عورت کو کلام اور خصومت کا حق نہیں۔
١٧٣٣٢ - حدثنا عمر عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا أصابها مرة فلا كلام لها ولا خصومة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ہم ہمیشہ سے یہ سنتے آئے ہیں کہ جب وہ ایک مرتبہ جماع کرلے تو عورت کو کلام اور خصومت کا حق نہیں۔
١٧٣٣٣ - حدثنا عمر عن ابن جريج عن عمرو بن دينار قال: ما زلنا نسمع أنه إذا أصابها مرة فلا كلام لها ولا خصومة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جب وہ ایک مرتبہ جماع کرلے تو عورت کو کلام اور خصومت کا حق نہیں۔
١٧٣٣٤ - حدثنا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن قتادة وأبي هاشم (قالا) (١): إن تزوجها ثم وطئها مرة ثم لم يستطع أن يغشاها فإنه لا خيار لها بعد (تلك) (٢) المرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اور حضرت ابو ہاشم فرماتے ہیں کہ اگر شادی کے بعد خاوند ایک مرتبہ وطی کرلے اور دوبارہ اس پر قدرت نہ رکھے تو اس کے بعد عورت کے لئے اختیار نہیں ہے۔
١٧٣٣٥ - حدثنا محمد بن يزيد عن عبيدة عن إبراهيم قال: إذا (وطئها) (١) (مرة) (٢) فليس لها خيار.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر شادی کے بعد خاوند ایک مرتبہ وطی کرلے اور دوبارہ اس پر قدرت نہ رکھے تو اس کے بعد عورت کے لئے اختیار نہیں ہے۔