کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: نکاح کے بعد عورت کو کچھ دیئے بغیر اس سے شرعی ملاقات کرنا کیسا ہے؟
١٧٢٣١ - حدثنا (جرير) (١) بن عبد الحميد عن منصور عن طلحة عن خيثمة قال: زوج رسول اللَّه ﷺ رجلًا من المسلمين لم يكن له شيء فأمر بامرأته أن تدخل عليه فصار ذلك الرجل (بعد) (٢) من أشراف المسلمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک مسلمان مرد کی شادی کرائی جس کے پاس کچھ نہ تھا۔ آپ نے اسے اجازت دی کہ وہ اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کرسکتا ہے۔ یہ آدمی بعد میں مسلمانوں کے سرکردہ لوگوں میں سے ہوا۔
١٧٢٣٢ - حدثنا أبو بكر عن أبي معاوية عن حجاج عن الركين عن أبيه قال: تزوج فلان ابن هرم ليلى بنت العجماء في زمن عمر فدخل بها ولم يعطها شيئًا من صداقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رکین کے والد فرماتے ہیں کہ ہرم کے ایک بیٹے نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لیلیٰ بنت عجماء سے شادی کی اور مہر کا کچھ حصہ دیئے بغیر اس سے شرعی ملاقات کی۔
١٧٢٣٣ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن أبي إسحاق عن كريب بن هشام وكان من أصحاب عبد اللَّه أنه زوج امرأة على أربعة آلاف ثم (دخل) (١) بها قبل أن يعطيها شيئًا من صداقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کریب بن ہشام جو کہ حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ انہوں نے ایک عورت سے چار ہزار درہم کے عوض نکاح کیا اور اسے مہر کا کچھ حصہ دیئے بغیر اس سے شرعی ملاقات فرمائی۔
١٧٢٣٤ - حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: اختلف فيه أهل المدينة فمنهم من كرهه ومنهم من رخص فيه وأي ذلك فعل فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اس بارے میں مدینہ کے علماء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک ایسا کرنا جائز اور بعض کے نزدیک ناجائز ہے۔ البتہ آدمی جو بھی کرلے اس میں کوئی حرج نہیں۔
١٧٢٣٥ - حدثنا عبدة عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: إذا كانت به راضية لم ير بذلك بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب عورت اس پر راضی ہو تو کوئی حرج نہیں۔
١٧٢٣٦ - حدثنا حفص عن هشام عن الحسن قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔