کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: شادی کے بعد اگر کوئی عورت آکر اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17222
١٧٢٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) معتمر عن محمد بن (عثيم) (٢) عن محمد ابن عبد الرحمن (البيلماني) (٣) عن أبيه عن ابن عمر قال: سئل نبي اللَّه (٤) ما يجوز في الرضاع من الشهود؟ قال: "رجل وامرأة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ سے رضاعت کے گواہوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک آدمی اور ایک عورت کافی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17222
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ ابن عثيم متروك، أخرجه أحمد (٤٩١١)، وعبد الرزاق (١٣٩٨٢)، والبيهقي ٧/ ٤٦٤، وابن عدي ٦/ ١٨٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17222، ترقيم محمد عوامة 16683)
حدیث نمبر: 17223
١٧٢٢٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن عمر بن سعيد بن أبي حسين قال: حدثني عبد اللَّه بن أبي مليكة قال: حدثني عقبة بن الحارث قال: تزوجت ابنة أبي [إهاب (التميمي) (١) فلما كانت] (٢) صبيحة ملكها جاءت مولاة لأهل مكة، فقالت: إني (قد) (٣) أرضعتكما، فركب عقبة إلى (النبي ﷺ) (٤) وهو بالمدينة فذكرت ذلك له وقد سألت أهل الجارية فأنكروا فقال: "كيف وقد قيل"، ففارقها ونكحت غيره (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں نے ابو اہاب تمیمی کی بیٹی سے شادی کی، شادی کی صبح مکہ کی ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ سوار ہو کر مدینہ منورہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ عرض کیا، ساتھ یہ بتایا کہ میں نے لڑکی کے گھر والوں سے سوال کیا لیکن انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب تو کہا جاچکا ہے ! پس عقبہ بن حارث نے اس عورت کو چھوڑ کر کسی اور سے شادی کرلی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17223
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٨٨)، وأحمد (١٦١٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17223، ترقيم محمد عوامة 16684)
حدیث نمبر: 17224
١٧٢٢٤ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد عن ابن عباس قال: إذا كانت المرأة مرضية جازت شهادتها في الرضاعة، ويؤخذ بيمينها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب دودھ پلانے کا اقرار کرنے والی عورت راضی لوگوں میں سے ہو تو رضاعت میں اس کی گواہی جائز ہے اور اس کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17224
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17224، ترقيم محمد عوامة 16685)
حدیث نمبر: 17225
١٧٢٢٥ - حدثنا (١) حفص عن ابن أبي ليلى عن عكرمة بن خالد أن عمر رد شهادة امرأة في (رضاع) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالدکہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رضاعت کے معاملے میں ایک عورت کی گواہی کو رد کردیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17225
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ لضعف ابن أبي ليلى، وعكرمة عن عمر منقطع.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17225، ترقيم محمد عوامة 16686)
حدیث نمبر: 17226
١٧٢٢٦ - حدثنا حفص عن (حلام) (١) بن صالح عن (بكير) (٢) بن (فائد) (٣) أن امرأة جاءت إلى رجل تزوج امرأة فزعمت أنها قد أرضعتهما فأتى عليا فسأله فقال: هي امرأتك ليس أحد يحرمها عليك وإن تنزهت فهو أفضل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکیر بن فائد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے شادی کی تو ایک عورت نے آکر دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ وہ آدمی مسئلہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ تیری بیوی ہے اسے کوئی تجھ پر حرام نہیں کرسکتا۔ البتہ اگر تو اس سے علیحدہ ہوجائے تو بہتر ہے۔ اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17226
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17226، ترقيم محمد عوامة 16687)
حدیث نمبر: 17227
١٧٢٢٧ - وسأل ابن عباس فقال: مثل ذلك (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17227
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17227، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 17228
١٧٢٢٨ - حدثنا أبو بكر عن معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: نبئت أن امرأة في زمان عثمان جاءت إلى أهل بيت فقالت: قد أرضعتكم ففرق بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک عورت ایک میاں بیوی کے پاس آئی اور دعویٰ کیا کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17228
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17228، ترقيم محمد عوامة 16688)
حدیث نمبر: 17229
١٧٢٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: كانت القضاة يفرقون بين الرجل وامرأته بشهادة (المرأة) (١) في الرضاع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ قاضی حضرات رضاعت میں ایک عورت کی گواہی پر میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17229
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17229، ترقيم محمد عوامة 16689)
حدیث نمبر: 17230
١٧٢٣٠ - حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: شهادة المرأة العاقلة تجوز في الرضاعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ایک عاقلہ عورت کی گواہی رضاعت کے معاملے میں کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17230
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17230، ترقيم محمد عوامة 16690)