کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو، دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 17209
١٧٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن (قثم) (٢) (أن عبد اللَّه) (٣) بن جعفر جمع بين ابنة علي وامرأته يعني من غيرها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جعفر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سابقہ بیوی اور ان کی اس بیٹی سے نکاح کیا جو اس بیوی کے علاوہ کسی اور بیوی سے تھی۔
حدیث نمبر: 17210
١٧٢١٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة بن خالد أن عبد اللَّه بن صفوان [(تزوج امرأة رجل) (١) من ثقيف] (٢) وابنته يعني من غيرها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن صفوان نے بنوثقیف کے ایک آدمی کی سابقہ بیوی اور اس کی اس بیٹی سے نکاح کیا جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے تھی۔
حدیث نمبر: 17211
١٧٢١١ - حدثنا (الثقفي و) (١) ابن علية عن أيوب: (سئل) (٢) عن ذلك محمد بن سيرين فلم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت محمد بن سیرین سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ مصر میں جبلہ نامی ایک آدمی تھا۔ اس نے ایک آدمی کی ام ولد باندی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کیا جو اس کے علاوہ کسی اور عورت سے تھی۔
حدیث نمبر: 17212
١٧٢١٢ - وقال: نبئت أن (جبلة) (١) رجل كان يكون بمصر تزوج أم ولد (رجل) (٢) وابنته يعني من غيرها (٣).
حدیث نمبر: 17213
١٧٢١٣ - حدثنا الثقفي عن أيوب قال: نبئت (عن) (١) سعد بن (قرحاء) (٢) رجل من أصحاب النبي ﷺ جمع بين امرأة رجل وابنته من غيرها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ ایک صحابی سعد بن قرحاء نے ایک آدمی کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کیا جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے تھی۔
حدیث نمبر: 17214
١٧٢١٤ - حدثنا عبد السلام عن عاصم عن الشعبي قال: لا بأس أن يجمع الرجل بين أم ولد رجل وابنته يعني من غيرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ آدمی کسی عورت کی ام ولد باندی اور اور اس کی ایسی بیٹی سے شادی کرسکتا ہے جو کسی اور بیوی سے ہو۔
حدیث نمبر: 17215
١٧٢١٥ - حدثنا عبد السلام عن ليث عن مجاهد قال: لا بأس أن يجمع الرجل بين امرأة الرجل وابنته (يعني) (١) من غيرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کرے جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو۔
حدیث نمبر: 17216
١٧٢١٦ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: لا بأس أن يجمع الرجل بين ابنة الرجل وامرأة أبيها وإن الحسن كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کرے جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو۔ جبکہ حسن کے نزدیک ایسا کرنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 17217
١٧٢١٧ - حدثنا ابن علية عن سلمة بن علقمة قال: سئل الحسن عن ذلك فكرهه فقال له (بعضهم) (١): يا أبا سعيد! هل ترى بينهما شيئا؟ (فنظر) (٢) فقال: لا أرى بينهما شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے ناجائز قرار دیا۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق ہے ؟ انہوں نے غور وفکر کیا پھر فرمایا کہ مجھے ان دونوں کے درمیان کچھ نظر نہیں آتا۔
حدیث نمبر: 17218
١٧٢١٨ - حدثنا شبابة عن ليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن سليمان بن يسار أنه كان يقول: لا بأس أن يجمع الرجل بين المرأة وبين امرأة أبيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی شخص کی سابقہ بیوی اور اس کی ایسی بیٹی سے نکاح کرے جو اس کے علاوہ کسی اور بیوی سے ہو۔
حدیث نمبر: 17219
١٧٢١٩ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون قال: سألت محمدًا فقال: لا أعلم به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون نے اس بارے میں محمد سے سوال کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار فرمایا۔