حدیث نمبر: 17195
١٧١٩٥ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: (نا) (٢) حفص بن غياث عن ليث عن عطاء قال: مُر على النبي ﷺ (٣) بعروس فقال: "لو كان مع هذا لهو! " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ کا گزر ایک شادی کے پاس سے ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہاں کچھ لہو (گانا وغیرہ) ہوتا تو اچھا تھا۔
حدیث نمبر: 17196
١٧١٩٦ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن ابن سيرين قال: نبئت أن عمر كان إذا (سمع) (١) صوتًا أنكره وسأل عنه فإن قيل (عرس) (٢) أو ختان (أقره) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کوئی گانے بجانے کی آواز سنتے تو اسے برا قرار دیتے اور اس کے بارے میں سوال کرتے ، اگر ان سے کہا جاتا کہ یہ شادی یا بچے کے ختنہ کی تقریب ہے تو آپ کچھ نہ کہتے۔
حدیث نمبر: 17197
١٧١٩٧ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن شيخ من بني سلمة عن (أبي) (١) قتادة أنه قال لجارية في (عرس) (٢) تضرب بالدف: ارعفي ارعفي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
بنو سلمہ کے ایک شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ نے شادی کے موقع پر دف بجانے والی ایک لڑکی سے کہا کہ آگے بڑھ کر بجاؤ، آگے بڑھ کربجاؤ۔
حدیث نمبر: 17198
١٧١٩٨ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن (عبيد اللَّه) (١) عن محمد ابن عمرو بن عطاء عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: لقد ضرب ليلة (الملاك) (٢) بالدف وغنى على رأس عبد الرحمن بن عوف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ بن عبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ شادی کی رات میں ڈھول بجایا گیا اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے پاس گانا گایا گیا۔
حدیث نمبر: 17199
١٧١٩٩ - حدثنا شريك عن (١) أبي إسحاق عن عامر بن سعد قال: دخلت على ابن مسعود وقرظة بن كعب وعندهما جوار (تغنين) (٢) فقلت: أتفعلون هذا وأنتم ⦗٢٧٩⦘ أصحاب رسول اللَّه ﷺ؟ قال: (فقال) (٣): إنه رخص لنا في اللهو عند العرس (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو مسعود اور حضرت قرظہ بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس کچھ لڑکیاں بیٹھی گانا گا رہی تھیں۔ میں نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہوکر ایسا کرتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ شادی کے موقع پر گانے وغیرہ کی اجازت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 17200
١٧٢٠٠ - حدثنا شبابة عن شعبة عن أبي بلج عن محمد بن (حاطب) (١) (قال: قال رسول اللَّه ﷺ) (٢): "فصل ما بين الحلال والحرام الصوت يعني الضرب بالدف" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حاطب فرماتے ہیں کہ حلال و حرام کے درمیان آواز یعنی دف بجانے کا فرق ہے۔
حدیث نمبر: 17201
١٧٢٠١ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت أبا إسحاق يحدث عن عمرو بن ربيعة أنه (١) قال: كنت مع (ثابت) (٢) بن وديعة وقرظة بن كعب في عرس فسمعت صوت غناء فقلت: ألا تسمعان؟ (فقالا) (٣): إنه قد رخص لنا في الغناء عند العرس والبكاء على الميت من غير نياحة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد کہتے ہیں کہ میں حضرت ثابت بن ودیعہ اور حضرت قرظہ بن کعب کے ساتھ ایک شادی میں شریک تھا۔ میں نے گانے کی آواز سنی تو کہا کہ کیا آپ دونوں یہ آواز نہیں سن رہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں شادی میں گانے کی اور میت پر بغیر آواز کے رونے کی اجازت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 17202
١٧٢٠٢ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: (نا) (١) ابن عون قال: كان في آل محمد ملاك فلما أن فرغوا ورجع محمد إلى منزله قال لهن: (وأين) (٢) (طعامكن) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد رحمہ اللہ کے ایک گھر میں شادی تھی۔ جب لوگ شادی کی تقریب سے فارغ ہوگئے اور محمد رحمہ اللہ اپنے گھر واپس آئے تو عورتوں سے پوچھا کہ تمہارے دف کہاں ہیں۔
حدیث نمبر: 17203
١٧٢٠٣ - قال ابن (عون) (١): يعني الدف.
حدیث نمبر: 17204
١٧٢٠٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي إسحاق عن رجل قال: دخل ابن مسعود عرسًا فيه مزامير ولهو فقعد ولم ينه عنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک صاحب نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شادی میں شریک ہوئے جس میں بانسریاں اور گانے کے آلات تھے، آپ بیٹھ گئے اور اس سے منع نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 17205
١٧٢٠٥ - حدثنا شريك عن جابر عن عكرمة عن ابن عباس أنه (حين) (١) ختن بنيه فدعا اللاعبين فأعطاهم أربعة دراهم أو قال: ثلاثة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ما نے جب اپنے بیٹے کے ختنے کئے تو کھیل تماشا کرنے والوں کو بلایا اور انہیں تین یا چار دراہم عطا کئے۔