کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی نے کسی شخص کی بیٹی سے نکاح کیا لیکن شب زفاف میں دوسری بیٹی اسے پیش کی گئی تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17152
١٧١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن بديل بن ميسرة العقيلي عن (أبي) (٢) (الوضيء) (٣) أن رجلًا تزوج إلى رجل من أهل الشام ابنة له (ابنة) (٤) مهيرة فزوجه وزفت إليه ابنة (له) (٥) أخر (ى) (٦) بنت (فتاة) (٧) (فسألها) (٨) الرجل بعد ما دخل بها: (ابنة) (٩) من أنت؟ قالت: ابنة فلان! يعني (الفتاة) (١٠)، فقال: إنما تزوجت إلى (أبيك) (١١) ابنة المهيرة فارتفعوا إلى معاوية بن أبي سفيان فقال: امرأة بامرأة وسأل من حوله من أهل الشام فقال: امرأة بامرأة ⦗٢٦٦⦘ فقال الرجل (لمعاوية) (١٢): (ارفعنا) (١٣) إلى علي بن أبي طالب فقال: اذهبوا إليه فاتوا عليًا فرفع علي من الأرض شيئًا فقال: القضاء في هذا (أيسر) (١٤) من هذا، لهذه ما سقت (إليها) (١٥) بما استحللت من فرجها (وعلى) (١٦) أبيها أن (يجهز) (١٧) الأخرى بما سقت إلى هذه (ولا تقربها) (١٨) حتى تنقضي عدة هذه الأخرى، قال: وأحسب أنه جلد أباها أو أراد أن يجلده (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الوضین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے شام کے ایک شخص کی بیٹی جس کی کنیت ” ابنۃ مہیرۃ “ (مہیرہ کہنے کی وجہ اس کے مہر کا زیادہ ہونا تھا) تھی، نکاح کیا۔ لیکن شبِ زفاف میں اسے ایک دوسری بیٹی پیش کردی گئی جس کی کنیت ” ابنۃ فتاۃ “ (اس کا مہر کم تھا) تھی۔ جب اس رات آدمی نے اس لڑکی سے جماع کرلیا تو پوچھا ” تو کون ہے ؟ “ اس نے کہا کہ میں ” ابنۃ فتاۃ “ ہوں۔ اس آدمی نے کہا تمہارے باپ نے تو میری شادی ” ابنۃ مہیرہ “ سے کی تھی۔ پس یہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عورت کے بدلے عورت ہوگئی لہٰذا کوئی جھگڑا نہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود شامی علماء سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انہوں نے بھی یہی فتوی دیا۔ پھر اس آدمی نے کہا کہ میں یہ قضیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے جانا چاہتا ہوں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت دے دی۔ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے زمین سے کوئی معمولی سی چیز اٹھائی اور فرمایا کہ میرے لئے اس کا فیصلہ کرنا اس چیز سے بھی زیادہ معمولی ہے۔ اس عورت کو تو اتنا مہر ملے گا جو تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے لئے اسے ادا کیا ہے۔ اور اس کے باپ پر لازم ہے کہ دوسری بیٹی کو وہ مال دے جو تو نے اسے ادا کیا ہے اور تو اس کے قریب اس وقت تک نہ جانا جب تک پہلی لڑکی عدت نہ گزار لے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لڑکی کے والد کو کوڑے لگوائے یاکوڑے لگوانے کا ارادہ فرمایا۔