کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کوبدکاری کرتے دیکھے یاسنے تو کیااس سے جماع کرسکتاہے؟
حدیث نمبر: 17130
١٧١٣٠ - حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے دیکھے تو اس سے بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17130
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17130، ترقيم محمد عوامة 16597)
حدیث نمبر: 17131
١٧١٣١ - وعن حماد عن إبراهيم (قالا) (١): إذا رأى (الرجل) (٢) امرأته تفجر لم يحرمها ذلك عليه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17131
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17131، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 17132
١٧١٣٢ - حدثنا أبو أسامة قال: (نا) (١) جرير بن حازم عن قيس بن (سعد) (٢) عن عطاء في الرجل تزني امرأته (٣) قال: لا يحرمها ذلك عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے دیکھے تو اس سے بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17132
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17132، ترقيم محمد عوامة 16598)
حدیث نمبر: 17133
١٧١٣٣ - حدثنا أبو داود عن حماد بن (سلمة) (١) عن عمران بن عبد اللَّه عن سالم قال له رجل: إني رأيت مع (امرأتي) (٢) رجلًا، (فقال) (٣): تطيب نفسك أو كيف تطيب نفسك إن (تمسكها) (٤) وقد رأيت ما رأيت (ولم) (٥) تحرم عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ دیکھنے کے بعد اب اس کے ساتھ تمہارا معاملہ درست کیسے رہ سکتا ہے ؟ حضرت سالم نے اس عورت کو مرد پر حرام قرار نہیں دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17133
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17133، ترقيم محمد عوامة 16599)
حدیث نمبر: 17134
١٧١٣٤ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن في الرجل يرى من امرأته فاحشة أنه يكره أن يمسكها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو زنا کرتے دیکھے تو اس سے جماع کرنا مکروہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17134
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17134، ترقيم محمد عوامة 16600)
حدیث نمبر: 17135
١٧١٣٥ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) بن جابر عن مكحول قال: إذا طلع الرجل على امرأته أنها تفجر لم يحل له أن يمسكها وإذا فجر هو، لم يحل لها أن تقيم معه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو زنا میں مبتلا دیکھے تو اس کے لئے اسے اپنے پاس رکھنا حلال نہیں اور جب کوئی عورت اپنے خاوند کو زنا میں مبتلا دیکھے تو اس کے لئے اس کے پاس رہنا حلال نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17135
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17135، ترقيم محمد عوامة 16601)
حدیث نمبر: 17136
١٧١٣٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد قال: كنت جالسًا مع ابن عباس في زمزم فأتاه رجل فذكر أنه يسقط امرأته فزعمت أنها ⦗٢٦١⦘ فجرت، فقال له ابن عباس: (فبئس) (١) ما صنعت إن كنت فعلت مثل الذي أقرت به على نفسها! فأمسك (عليك) (٢) امرأتك وإن (كنت) (٣) لم تفعل (فخل) (٤) سبيلها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن شداد فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ ما کے ساتھ بئر زمزم کے پاس بیٹھا تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو بچہ ضائع کرنے پر مجبور کیا کیونکہ اس عورت کا کہنا تھا کہ اس نے بدکاری کی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا۔ کیونکہ اگر تم نے بھی اس جیسا کام کیا ہے جس کا وہ اپنے لئے اقرار کررہی ہے تو اسے اپنی بیوی بنا کر رکھو اور اگر تم نے ایسا کام نہیں کیا تو اس کا راستہ چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17136، ترقيم محمد عوامة 16602)
حدیث نمبر: 17137
١٧١٣٧ - حدثنا عبدة عن سعيد عن عدي بن ثابت عن نافع عن ابن عمر قال: إذا (رأى) (١) أحدكم امرأته أو أم ولده على فاحشة فلا (يقربها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یا ام ولد باندی کو مبتلائے زنا دیکھے تو اس کے قریب نہ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17137، ترقيم محمد عوامة 16603)
حدیث نمبر: 17138
١٧١٣٨ - حدثنا أبو داود عن (زمعة) (١) عن سلمة بن وهرام قال: كنت جالسًا عند طاوس فقال (له) (٢) رجل: إني وجدت في مجلسي رجلًا، فقال طاوس: إن طابت نفسك أن تمسكها وقد رأيت ما رأيت (فأنت أعلم) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن وہرام کہتے ہیں کہ میں حضرت طاوس کے پاس بیٹھا تھا، ایک آدمی نے ان سے کہا کہ میں نے ایک آدمی کو اپنی بیوی سے زنا کرتے دیکھا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر تمہارا دل مانے تو اس عورت کو اپنے پاس رکھ لو حالانکہ تم سب دیکھ چکے ہیں اور تم زیادہ بہتر جانتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17138
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17138، ترقيم محمد عوامة 16604)
حدیث نمبر: 17139
١٧١٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أنا حماد بن سلمة (١) عن عبد الكريم ⦗٢٦٢⦘ (عن عبد اللَّه) (٢) بن (عبيد) (٣) (بن) (٤) عمير عن ابن عباس قال: جاء (رجل) (٥) إلى (النبي) (٦) ﷺ فقال: إن عندي امرأة أحب الناس إلي وإنها لا تمنع يد لامس قال: "طلقها" قال: لا أصبر عنها قال: "فاستمتع بها" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میری ایک بیوی ہے جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے، وہ درست کردار کی حامل نہیں۔ اس کے بارے میں میرے لئے کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو طلاق دے دو ۔ اس نے کہا میں اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس سے فائدہ اٹھاتے رہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17139
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الكريم، أخرجه النسائي ٦/ ٦٧، والبيهقي ٧/ ١٥٤، وابن حزم في المحلى ٩/ ٤٧٧، والرامهرمزي في المحدث ص ٢٤٠، والخطيب في الجامع ٢/ ٢٩٦، وبنحوه أخرجه أبو داود (٢٠٤٢)، ثم قد روي مرسلًا، أخرجه النسائي والشافعي في المسند ١/ ٢٨٩، والأم ٥/ ١٢، وعبد الرزاق (١٢٣٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17139، ترقيم محمد عوامة 16605)