حدیث نمبر: 17106
١٧١٠٦ - حدثنا (جرير عن) (١) مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا (سبيت) (٢) اليهوديات والنصرانيات عرض عليهن الإسلام (وجبرن) (٣) عليه، فإن أسلمن أو لم يسلمن (وطئن) (٤) واستخدمن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب یہودی یا نصرانی عورتوں کو قیدی بنایا جائے تو انہیں اسلام کی دعوت دی جائے گی اور اسلام قبول کرنے پر اصرار کیا جائے گا۔ پھر وہ اسلام قبول کریں یا نہ کریں ان سے جماع کیا جاسکتا ہے اور ان سے خدمت بھی لی جاسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 17107
١٧١٠٧ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول في الرجل إذا كانت (له) (١) وليدة (يهودية) (٢) أو نصرانية فإنه يطوها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ آدمی یہودی یاعیسائی باندی سے وطی کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 17108
١٧١٠٨ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن قال: [اليهودية والنصرانية يطؤها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ آدمی یہودی یاعیسائی باندی سے وطی کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 17109
١٧١٠٩ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال] (١): إذا أصاب الرجل الجارية المشركة فليقررها بشهادة (أن) (٢) لا إله إلا اللَّه، فإن أبت ولم تقر لم يمنعه ذلك أن يقع عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب آدمی کو کوئی مشرکہ باندی حاصل ہوتولا الہ الا اللہ کی گواہی دینے کی دعوت دے۔ اگر وہ انکار بھی کردے تب بھی وہ اس سے جماع کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 17110
١٧١١٠ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن معاوية بن قرة قال: كان عبد اللَّه يكره (أمته) (١) مشركة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ مشرکہ باندی سے صحبت کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 17111
١٧١١١ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا كانت له أمة من أهل الكتاب فله أن يغشاها إن شاء ويكرهها على الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کے پاس مشرکہ باندی ہو تو آدمی اس سے جماع کرسکتا ہے۔ اور اسے غسل پر مجبور کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 17112
١٧١١٢ - حدثنا معتمر عن (أبيه) (١) عن قتادة عن ابن مسعود في المسبية: لا يطأها حتى تهل وتسلم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیدی عورت سے آدمی اس وقت تک جماع نہ کرے جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرارکرکے اسلام قبول نہ کرلے۔
حدیث نمبر: 17113
١٧١١٣ - حدثنا يزيد عن حبيب عن عمرو بن هرم قال: سئل جابر بن (زيد) (١) عن الرجل يشتري الجارية من السبي فيقع عليها قال: (لا) (٢) حتى يعلمها الصلاة والغسل من الجنابة وحلق العانة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ہرم فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی کسی قیدی باندی کو خرید لے تو کیا اس سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت تک جماع نہیں کرسکتا جب تک اسے نماز، غسلِ جنابت اور زیرناف بال صاف کرنا نہ سکھا دے۔
حدیث نمبر: 17114
١٧١١٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن قيس بن مسلم عن الحسن بن محمد أن النبي ﷺ كتب إلى مجوس أهل هجر: يعرض عليهم الإسلام فمن أسلم قبل منه، ومن لم يسلم (ضرب) (١) عليه الجزية غير ناكحي نسائهم ولا آكلي ذبائحهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن محمد فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے ہجر کے مجوسیوں کے بارے میں حکم دیتے ہوئے خط لکھا کہ انہیں اسلام کی دعوت دی جائے اور جو اسلام لے آئے اس کا اسلام قبول کرلیا جائے اور جو اسلام قبول نہ کرے اس پر جزیہ مقرر کردیا جائے۔ البتہ ان کی عورتوں سے نکاح نہیں کیا جائے گا اور ان کا ذبیحہ نہیں کھایاجائے گا۔