کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی توکیااس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 17049
١٧٠٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ابن أبي عروبة عن قتادة في الرجل يتزوج المرأة ثم يطلقها قبل أن يدخل بها، أيتزوج أمها؟ قال: قال علي: هي بمنزلة الربيبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے سوال کیا گیا کہ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ یہ ربیبہ کے درجہ میں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17049
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17049، ترقيم محمد عوامة 16521)
حدیث نمبر: 17050
١٧٠٥٠ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن (خلاس) (١) مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17050
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17050، ترقيم محمد عوامة 16522)
حدیث نمبر: 17051
١٧٠٥١ - حدثنا (ابن علية) (١) عن (ابن أبي عروبة) (٢) عن قتادة عن سعيد بن السيب عن زيد بن ثابت أنه كان لا يرى (به) (٣) (بأسًا) (٤) إذا طلقها ويكرهها إذا ماتت عنده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت عورت کو قبل ازدخول طلاق دینے کی صورت میں عورت کی ماں سے نکاح کو بالکل جائز سمجھتے تھے۔ اور قبل از دخول عورت کے انتقال کی صورت میں اسے مکروہ بتاتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17051
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17051، ترقيم محمد عوامة 16523)
حدیث نمبر: 17052
١٧٠٥٢ - حدثنا ابن (علية) (١) عن ابن جريج عن (٢) أبي بكر (بن) (٣) حفص ابن (عمر) (٤) بن سعد أن مسلم بن (عويمر) (٥) بن الأجدع من بني بكر بن كنانة أخبره أن أباه أنكحه امرأة بالطائف، قال ة فلم أجامعها حتى توفي (عمي) (٦) عن أمها وأمها ذات مال كثير، فقال لي: هل لك في أمها؟ فقلت: وددت وكيف وقد نكحت ابنتها، قال: فسألت [ابن عباس فقال: انكحها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
بنو بکر بن کنانہ کے حضرت مسلم بن عویمر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے طائف میں ایک عورت سے میری شادی کی۔ ابھی میں نے اس سے جماع نہ کیا تھا کہ اس کی ماں کے خاوند کا انتقال ہوگیا۔ اس کی ماں ایک مالدار عورت تھیں۔ میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اگر تم اس کی ماں سے شادی کرلو تو بہت رہے۔ میں نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں نے اس کی بیٹی سے نکاح کرلیا ہے۔ پھر اس بارے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اس سے نکاح کرلو۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نکاح نہ کرو۔ پھر ابو عویمر نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط لکھا جس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے درج کی اور اس بارے میں حضرت معاویہ کی رائے معلوم کی۔ حضرت معاویہ نے انہیں خط میں لکھا کہ جو چیز اللہ نے حلال کی ہے میں اسے حرام نہیں کرتا اور جو حرام کی ہے میں اسے حلال نہیں کرتا۔ آپ کے پاس اور بھی بہت سی عورتیں ہیں۔ پھر انہوں نے نہ مجھے اس سے منع کیا اور نہ اجازت دی۔ پھر میرے والد نے اس خیال کو چھوڑ دیا اور ہم نے اس سے نکاح نہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17052
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17052، ترقيم محمد عوامة 16524)
حدیث نمبر: 17053
١٧٠٥٣ - وسألت ابن عمر فقال: لا تنكحها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17053
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17053، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 17054
١٧٠٥٤ - قال: فكتب (أبي) (١) عوير في ذلك إلى معاوية وأخبره في كتابه بما قال ابن عباس] (٢) وبما قال ابن عمر فكتب إليه معاوية: لا أحل ما حرم اللَّه ولا أحرم ما أحل اللَّه وأنت (وذاك) (٣) والنساء (كثير) (٤) قال: (فلم) (٥) ينهني ولم يأذن لي وانصرف أبي عنها فلم ينكحها (٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17054
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17054، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 17055
١٧٠٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي فروة عن أبي عمرو الشيباني عن عبد اللَّه بن مسعود أنه أفتى في رجل تزوج امرأة فطلقها قبل أن يدخل بها أو ماتت عنه، فقال: لا بأس أن يتزوج أمها، ثم أتى المدينة فرجع فأتاهم فنهاهم وقد ولدت أولادًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا کہ اگر کسی آدمی نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی یامر گیا تو وہ اس عورت کی ماں سے شادی کرسکتا ہے۔ پھر جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیا اور لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ حالانکہ عورتوں کی شادی کے بعد بچے بھی ہوچکے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17055
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17055، ترقيم محمد عوامة 16525)
حدیث نمبر: 17056
١٧٠٥٦ - حدثنا ابن علية عن داود عن الشعبي عن مسروق في ﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ﴾ [النساء: ٢٣]، قال: ما أرسل اللَّه فأرسلوا (١) وما بيّن فاتبعوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق قرآن مجید کی آیت { أُمَّہَاتِ نِسَائِکُمْ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا ہے اسے مبہم رہنے دو اور جسے وضاحت سے بیان کیا ہے اس کی اتباع کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17056
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17056، ترقيم محمد عوامة 16526)
حدیث نمبر: 17057
١٧٠٥٧ - حدثنا ابن علية عن ابن جريج قال: أخبرني عكرمة عن مجاهد أنه قال في: ﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ (وَرَبَائِبُكُمُ) (١) اللَّاتِي فِي (حُجُورِكُمْ) (٢)﴾ أريد (بهما) (٣) ⦗٢٤٥⦘ (الدخول) (٤) (جميعًا) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَأُمَّہَاتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَائِبُکُمَ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہاں دخول مراد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17057
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17057، ترقيم محمد عوامة 16527)
حدیث نمبر: 17058
١٧٠٥٨ - حدثنا ابن علية عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: الرجل يتزوج المرأة ثم لا يراها ولا يجامعها حتى يطلقها أيتزوج (١) أمها؟ قال: لا هي مرسلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی نے عورت سے شادی کی، پھر اسے دیکھے اور جماع کئے بغیر اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اس کی ماں سے شادی کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17058
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17058، ترقيم محمد عوامة 16528)
حدیث نمبر: 17059
١٧٠٥٩ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه كان يكره إذا ملك الرجل عقدة امرأة أن (يتزوجها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ آدمی کسی عورت سے نکاح کرنے کے بعد اس کی ماں سے شادی کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17059
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17059، ترقيم محمد عوامة 16529)
حدیث نمبر: 17060
١٧٠٦٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام عن قتادة قال: أخبرني عاصم بن سعيد الهذلي عن سعيد بن المسيب أن زيد بن ثابت كان يكره أن يتزوج بنت امرأة ماتت أمها عنده (قبل) (١) أن يدخل بها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس بات کو ناپسند خیال فرماتے تھے کہ آدمی کسی ایسی عورت کی ماں سے شادی کرے جس کا دخول سے پہلے انتقال ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17060
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17060، ترقيم محمد عوامة 16530)
حدیث نمبر: 17061
١٧٠٦١ - (حدثنا) (١) ابن علية قال: قلت لابن أبي نجيح: الرجل يتزوج المرأة ثم يطلقها قبل أن يدخل بها أيتزوج أمها؟ فقال: سمعت عكرمة ينهى عنها وعطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو نجیح سے سوال کیا کہ اگر آدمی کسی عورت سے دخول کئے بغیر اسے طلاق دے دے تو کیا ا س کی ماں سے شادی کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عکرمہ اور حضرت عطاء کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17061
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17061، ترقيم محمد عوامة 16531)
حدیث نمبر: 17062
١٧٠٦٢ - حدثنا علي بن مسهر عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن عمران بن الحصين في (أمهات نسائكم) قال: هي مبهمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { أُمَّہَاتِ نِسَائِکُمْ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ مبہم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17062
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ سعيد اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17062، ترقيم محمد عوامة 16532)
حدیث نمبر: 17063
١٧٠٦٣ - حدثنا أبو داود (عن زمعة) (١) عن ابن طاوس عن أبيه (أنه كان يكرهها) (٢) وقال: هي مبهمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس نے بھی اس آیت کو مبہم قراردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17063
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17063، ترقيم محمد عوامة 16533)
حدیث نمبر: 17064
١٧٠٦٤ - حدثنا (١) علي بن مسهر عن سعيد عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس قال: هي مبهمة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اس آیت کو مبہم قراردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17064
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ سعيد اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17064، ترقيم محمد عوامة 16534)