حدیث نمبر: 16968
١٦٩٦٨ - حدثنا (عبدة) (١) عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم عن علي أنه كان يكره ذبائح نصارى بني (تغلب) (٢) ونساءهم ويقول؛ هم من العرب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بنو تغلب کا ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح کو مکروہ قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ عرب لوگ ہیں۔
حدیث نمبر: 16969
١٦٩٦٩ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن أنه كان لا يرى بذلك بأسًا ويقول: انتحلوا (دينًا) (١) فذلك دينهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ بنو تغلب کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے ایک دین اختیار کیا ، اب یہی ان کا دین ہے۔
حدیث نمبر: 16970
١٦٩٧٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو بن (هرم) (١) قال: سئل جابر بن زيد عن نصارى العرب هل تحل نساؤهم (٢) للمسلمين (٣) قال: ليسوا من أهل الكتاب ولا تحل نساؤهم ولا طعامهم للمسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ہرم فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے عرب عیسائیوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا ان کی عورتوں سے نکاح کرنا حلال ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اہل کتاب نہیں، ان کی عورتیں اور ان کا کھانا مسلمانوں کے لئے حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16971
١٦٩٧١ - حدثنا معتمر عن عمران بن (حدير) (١) قال: قال عكرمة: ﴿(وَمَن ⦗٢٢٣⦘ يَتَوَلَّهُمْ) (٢) مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ [المائدة: ٥١]، قال: نصارى العرب في ذبائحهم وفي نسائهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ قرآن مجید کی آیت { وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت عرب عیسائیوں کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 16972
١٦٩٧٢ - حدثنا عفان قال: نا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن عكرمة عن ابن عباس قال: كلوا ذبائح بني تغلب وتزوجوا نساءهم فإن اللَّه تعالى يقول: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ﴾، فلو لم يكونوا منهم إلا بالولاية لكانوا منهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنوتغلب کا ذبیحہ کھاؤ اور ان کی عورتوں سے شادی کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
حدیث نمبر: 16973
١٦٩٧٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سعيد عن أبي (معشر) (١) عن إبراهيم عن علي أنه (كره) (٢) (ذبائح) (٣) نصارى العرب ونساءهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عیسائی عربوں کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 16974
١٦٩٧٤ - حدثنا أبو خالد عن سعيد عن أبي (معشر) (١) عن إبراهيم أنه (كرهه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے عیسائی عربوں کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 16975
١٦٩٧٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔