کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک شخص نے اپنی باندی کو اللہ کے لئے آزاد کیا تو وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 16928
١٦٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن أنس بن مالك وسعيد بن المسيب أنهما قالا: إذا أعتقها (للَّه) (١) (تعالى) (٢) فلا يعود فيها، ولا يريان بأسًا أن يعتقها ليتزوجها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی باندی کو اللہ کے لئے آزاد کیا تو وہ اس میں اب رجوع نہ کرے۔ البتہ اگر شادی کرنے کے لئے آزاد کیا تو پھر کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 16929
١٦٩٢٩ - حدثنا عبد الأعلى عن شعبة عن سعيد عن النخعي أنه (كرهه) (١) إذا أعتقها للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نخعی فرماتے ہیں کہ اگر اللہ کے لئے آزاد کیا تو نکاح کرنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 16930
١٦٩٣٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم أنه كره أن يعتقها ثم يتزوجها (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو مکروہ قرار دیتے ہیں کہ آدمی آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے۔
حدیث نمبر: 16931
١٦٩٣١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن قتادة عن سعيد بن المسيب أنه كره أن يعتقها لوجه اللَّه (تعالى) (١) ثم يتزوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اس بات کو مکروہ قرار دیتے ہیں کہ آدمی اللہ کے لئے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے۔
حدیث نمبر: 16932
١٦٩٣٢ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة أن بشير بن كعب قرأ هذه الآية: ﴿(فَامْشُوا) (١) فِي مَنَاكِبِهَا﴾ [الملك: ١٥]، فقال لجاريته: إن دريت ما مناكبها فأنت حرة لوجه اللَّه قالت: فإن مناكبها (جبالها) (٢) (فكأنما سفع) (٣) وجهه ورغب في جاريته فجعل يسأل عن ذلك فمنهم من يأمره ومنهم من ينهاه حتى لقي أبا الدرداء فذكر ذلك له فقال: دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الخير في طمأنينة وإن الشر في ريبة (فترك) (٤) ذلك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بشیر بن کعب نے یہ آیت پڑھی { فَامْشُوا فِی مَنَاکِبِہَا } پھر اپنی باندی سے کہا کہ اگر تم ” مناکبھا “ کا معنی بتادو تو تم آزاد ہو۔ اس نے کہا کہ اس سے مراد ” پہاڑ “ ہیں۔ یہ سنتے ہی بشیر بن کعب کا رنگ بدل گیا ! وہ اپنی اس باندی سے محبت کرتے تھے۔ اب انہوں نے اس بارے میں لوگوں سے پوچھنا شروع کردیا کہ اسے آزاد کروں یا نہیں۔ بعض نے آزاد کرنے کو کہا اور بعض نے اس سے منع کیا۔ انہوں نے حضرت ابوا لدردائ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے اختیار کرلو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔ خیر طمانیت کا نام ہے اور شک میں شر ہے۔ لہٰذا بشیر بن کعب نے اس باندی کو چھوڑ دیا۔