کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اللہ کے لیے آزاد کرکے بھی اس سے نکاح کرسکتا ہے
❮
❯
١٦٩٣٣ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة (أن) (١) الحسن وعطاء كانا لا ⦗٢١٥⦘ يريان بذلك بأسًا (و) (٢) إن أعتقها للَّه (ويقولان: هو أعظم للأجر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء اللہ کے لئے آزاد کی جانے والی باندی سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ زیادہ ثواب کا کام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16933
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16933، ترقيم محمد عوامة 16415)
١٦٩٣٤ - [حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أنه كان إذا سئل عن الرجل يعتق جاريته ويتزوجها (أنه) (١) كان لا يرى بذلك بأسًا وإن اعتقها للَّه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے جب اللہ کے لئے آزاد کی جانے والی باندی سے نکاح کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ اس کو جائز قراردیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16934
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16934، ترقيم محمد عوامة 16416)