کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک آزادآدمی کا باندی سے نکاح کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 16819
١٦٨١٩ - حدثنا هشيم عن أبي بشر عن سعيد بن جبير في الحر يتزوج الأمة قال: ما ازلحف عن الزنى إلا قليلًا لقوله: ﴿وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ [النساء: ٢٥]، قال: (يقول) (١): عن نكاح الأمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ کسی آزاد شخص نے باندی سے نکاح کیا تو وہ زنا سے تھوڑا سا پیچھے ہٹا، کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی آیت { وَأَنْ تَصْبِرُوا خَیْرٌ لَکُمْ } میں فرماتے ہیں کہ اگر تم باندی کے نکاح سے رک جاؤ تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 16820
١٦٨٢٠ - حدثنا هشيم عن العوام عمن حدثه عن ابن عباس قال: ما (يزحف) (١) عن الزنى إلا قليلًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی آزاد شخص نے باندی سے نکاح کیا تو وہ زنا سے تھوڑا سا پیچھے ہٹا۔
حدیث نمبر: 16821
١٦٨٢١ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يكره (تزوج) (١) الأمة ما قدر على الحرة إلا أن يخشى العنت.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے لئے باندی سے نکاح کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے جو آزاد سے نکاح پر قادر ہو۔ البتہ اگر زنا کا خو ف ہو تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 16822
١٦٨٢٢ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو قال: سأل عطاء جابرًا عن (نكاح) (١) الأمة فقال: لا يصلح اليوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء نے حضرت جابر سے باندی سے نکاح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اب یہ جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 16823
١٦٨٢٣ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول قال: لا يصلح للحر أن يتزوج الأمة إلا أن لا يجد طولًا.
مولانا محمد اویس سرور
مکحول فرماتے ہیں کہ آزاد آدمی باندی سے اسی صورت میں شادی کرسکتا ہے جب کہ وہ آزاد عورت کا خرچہ نہ برداشت کرسکے۔
حدیث نمبر: 16824
١٦٨٢٤ - حدثنا معتمر عن أبي عبيدة عن عمارة بن (حيان) (١) أن امرأة أتت جابر بن زيد فقالت: إن رجلًا يخطب علي أمتي، قال: (لا) (٢) تزوجيه قالت: فإنه يخشى على نفسه، قال: لا تزوجيه، قالت: فإنه يخشى أن يزني بها، قال: فزوجيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ بن حیان کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت جابر بن زید کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ ایک آدمی نے میرے پاس میری باندی کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ وہاں اس کی شادی نہ کراؤ۔ اس عورت نے کہا کہ پیغام بھیجنے والے کو گناہ کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے پھر فرمایا کہ وہاں اس کی شادی نہ کراؤ۔ اس عورت نے کہا کہ پیغام بھیجنے والے کو اندیشہ ہے کہ وہ اس باندی سے زنا کر بیٹھے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر وہاں اس کی شادی کرادو۔
حدیث نمبر: 16825
١٦٨٢٥ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة عن الحكم وحماد سئلا عن نكاح الأمة (فقالا) (١): لمن خشي العنت منكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد سے باندی سے نکاح کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے قرآن کی آیت پڑھی { لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ } یہ اس کے لئے جائز ہے جسے زنا کا خوف ہو۔
حدیث نمبر: 16826
١٦٨٢٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد قال: إنه مما (وسع) (١) به على هذه الأمة، نكاح الأمة والنصرانية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس امت کو باندی اور عیسائی عورت سے نکاح کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 16827
١٦٨٢٧ - حدثنا ابن إدريس عن (يحيى) (١) بن (سعيد) (٢) عن (سعيد) (٣) بن المسيب قال: قال عمر: (أيما عبد) (٤) نكح حرة (فقد) (٥) أعتق نصفه، وأيما حر نكح أمة فقد أرق نصفه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس غلام نے کسی آزاد عورت سے نکاح کیا اس غلام کا آدھا حصہ آزاد ہوگیا اور جس آزاد نے باندی سے نکاح کیا اس کا آدھا حصہ غلام ہوگیا۔
حدیث نمبر: 16828
١٦٨٢٨ - حدثنا الفضل عن شريك عن (خصيف) (١) عن عامر قال: نكاح الأمة كالميتة والدم ولحم الخنزير، (٢) لا يحل إلا للمضطر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ باندی کا نکاح مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی طرح ہے جو صرف سخت مجبور کیلئے جائز ہے۔