کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کیا کوئی آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر مہر اوربغیر گواہوں کے کراسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16788
١٦٧٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن منصور عن الحسن قال: كان لا يرى بأسًا أن يزوج الرجل عبده أمته بغير مهر ولا بينة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو جائز قرار دیتے تھے کہ کوئی آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیرمہر اور بغیر گواہوں کے کرادے۔
حدیث نمبر: 16789
١٦٧٨٩ - حدثنا (عبد الرحمن) (١) بن محمد المحاربي عن ليث عن عطاء في الرجل يزوج عبده أمته بغير شهود قال: (٢) يشهد أحب إليّ، وإن لم يفعل فهو جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیر گواہوں کے کراسکتا ہے البتہ اگر کسی کو گواہ بنالے تو بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 16790
١٦٧٩٠ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون المملوكين على النكاح (ويغلقون) (١) عليهما الباب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف غلام اور باندی کو نکاح پر مجبور کرتے تھے اور ان کے لئے دروازہ بند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 16791
١٦٧٩١ - حدثنا عيسى بن يونس (عن ابن جريج عن عطاء) (١) عن ابن عباس قال: لا بأس أن يزوج الرجل أمته عبده بغير مهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے غلام کی شادی اپنی باندی سے بغیرمہر کے کراسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 16792
١٦٧٩٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن أبي فاطمة قال: سألت ابن سيرين قال: قلت: (رجل) (١) قال لمملوكه: دونك جاريتي هذه فلانة، فإن أحببت أن تتخذها لنفسك وإلا فبعها ورد علي ثمنها، قال: اكسها ثوبًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فاطمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی اپنے غلام سے یہ کہے کہ میری فلاں باندی لے لو، اگر چاہو تو اس سے نکاح کرلو اور اگر چاہو اسے بیچ کر اس کی قیمت مجھے دے دو ۔ تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کو جوڑا پہنا دے۔