کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کسی عورت کا ولی اس کا نکاح کرانے سے انکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 16763
١٦٧٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن شعبة عن زياد بن علاقة قال: خطب رجل سيدة من بني ليث ثيبًا، فأبى أبوها أن يزوجها، فكتبت إلى عثمان، ⦗١٨٤⦘ فكتب عثمان: إن كان كفؤًا فقولوا لأبيها: أن يزوجها فإن أبى أبوها فزوجوها. (١)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے بنو لیث کی ایک ثیبہ عورت کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ اس کے باپ نے اس کی شادی کرانے سے انکار کردیا۔ اس عورت نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر حکم دیا کہ اگر وہ آدمی اس عورت کا کفو ہے تو اس کے باپ سے کہو کہ اس کی شادی کرادے۔ اگر وہ شادی نہ کرائے تو پھر بھی اس کی شادی کرادو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16763
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16763، ترقيم محمد عوامة 16258)
حدیث نمبر: 16764
١٦٧٦٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن قال: إذا اختلف الوليّ والمرأة نظر السلطان، فإن كان الوليّ مضارًا زوجها وإلا ردّ (أمرها) (١) إلى وليها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر ولی اور سلطان کا اختلاف ہوگیا تو سلطان دیکھے گا اگر ولی عورت کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس عورت کی بات معتبر ہوگی اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ ولی کے سپرد ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16764
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16764، ترقيم محمد عوامة 16259)
حدیث نمبر: 16765
١٦٧٦٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن سليمان التيمي عن أبي جعفر الأشجعي أن امرأة أتت شريحا معها أمها وعمها، فأرادت الأم رجلًا وأراد العم رجلًا، فخيرها شريح، فاختارت (الذي اختارت) (١) أمها فقال شريح للعم: تأذن؟ قال: لا واللَّه، لا آذن قال: أتأذن قبل أن لا يكون لك إذن؟ قال: لا واللَّه، لا آذن، قال شريح: اذهبي، (فانكحي) (٢) ابنتك من شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر اشجعی کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی ماں اور اپنے چچا کے ساتھ حضرت شریح کے پاس آئی۔ اس کی ماں ایک آدمی سے اور اس کا چچا دوسرے آدمی سے اس کا نکاح کرانا چاہتا تھا۔ حضرت شریح نے اس عورت کو اختیار دیا تو اس عورت نے اپنی ماں کی پسند کو اختیار کیا۔ حضرت شریح نے اس کے چچا سے پوچھا کہ کیا تم اجازت دیتے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں خدا کی قسم ! ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ حضرت شریح نے فرمایا کہ کیا تم اجازت دیتے ہو قبل اس کے کہ تمہاری اجازت نہ رہے۔ اس کے چچا نے کہا کہ میں خدا کی قسم ! ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔ حضرت شریح نے اس عورت کی ماں سے فرمایا تم اپنی بیٹی کو لے جاؤ اور جہاں چاہو اس کا نکاح کرادو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16765
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16765، ترقيم محمد عوامة 16260)