کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لئے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
حدیث نمبر: 16735
١٦٧٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا (سفيان) (١) ابن عيينة عن الزهري عن سعيد يبلغ به النبي ﷺ: "تستأمر اليتيمة في نفسها، وصمتها إقرارها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یتیم لڑکی سے نکاح کی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے۔
حدیث نمبر: 16736
١٦٧٣٦ - حدثنا أبو معاوية عن محمد بن عمرو (عن أبي سلمة) (١) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اليتيمة تستأمر في نفسها، فإن (قبلت) (٢) فهو إذنها، وإن (أبت) (٣) فلا جواز عليها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یتیم لڑکی سے نکاح کی اجازت طلب کی جائے گی، اگر وہ قبول کرلے تو یہ اس کی اجازت ہے اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر کوئی زبردستی نہیں۔
حدیث نمبر: 16737
١٦٧٣٧ - حدثنا سلام عن أبي إسحاق عن أبي بردة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيما يتيمة خطبت فلا تنكح حتى تستأمر، فإن هي أقرت (فلتنكح) (١) وإقرارها سكوتها، وإن أنكرت فلا تنكح" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبردہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی یتیم لڑکی کو نکاح کا پیغام بھجوایا گیا تو اس کا نکاح اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اس سے اجازت نہ طلب کی جائے۔ اگر وہ ہاں کردے تو اس کا نکاح کرادیا جائے اور اس کا سکوت اس کا اقرار ہے۔ اگر وہ انکار کردے تو اس کا نکاح نہیں کرایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16738
١٦٧٣٨ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: قال عمر: تستأمر اليتيمة في نفسها، (فرضاها) (١) أن تسكت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے اس کی رضا طلب کی جائے گی اور اس کی رضا اس کی خاموشی ہے۔
حدیث نمبر: 16739
١٦٧٣٩ - حدثنا فضيل بن عياض عن منصور عن إبراهيم عن عمر مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 16740
١٦٧٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) (عبدة) (٢) بن سليمان عن (مجالد) (٣) عن الشعبي عن علي [وعمر وشريح قالوا: تستأمر اليتيمة في نفسها، ورضاها أن تسكت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے اس کے دل کی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی رضا اس کی خاموشی ہے۔
حدیث نمبر: 16741
١٦٧٤١ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): نا هشيم عن مجالد عن الشعبي عن علي] (٢) أنه كان يقول: إذا (زوجت) (٣) اليتيمة فإن سكتت فهو رضاها، وإن كرهت لم تزوج (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب یتیم لڑکی کی شادی کرائی جائے، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا ہے اور اگر اس نے ناپسند کیا تو اس کی شادی نہیں کرائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 16742
١٦٧٤٢ - حدثنا هشيم عن أشعث عن ابن سيرين (عن شريح) (١) قال: إن سكتت ورضيت فقد سلمت، وإن كرهت و (بغضت) (٢) لم تنكح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر وہ خاموش رہے اور راضی رہے تو گویا اس نے مان لیا اور اگر وہ ناپسند کرے اور اظہارِ ناگواری کرے تو اس کا نکاح نہیں کرایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16743
١٦٧٤٣ - حدثنا هشيم (و) (١) جرير كلاهما عن مغيرة عن إبراهيم في اليتيمة إذا (زوجت) (٢) قال: فإن سكتت أو بكت فهو رضاها، وإن كرهت لم تزوج.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر یتیم لڑکی کی شادی کرائی گئی ، اگر وہ خاموش رہی یا رو پڑی تو یہ اس کی رضا ہے، اگر اس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو اس کی شادی نہ کرائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 16744
١٦٧٤٤ - ولم يذكر جرير: كرهت.
حدیث نمبر: 16745
١٦٧٤٥ - حدثنا ابن (مهدي) (١) عن (سفيان) (٢) عن خالد بن دينار عن الشعبي قال: سمعته يقول في اليتيمة: إذا زوجت فضحكت أو بكت أو سكتت فهو رضاها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی کی اگر شادی کرائی جائے اور وہ ہنس پڑے یا رو پڑے یا خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے۔
حدیث نمبر: 16746
١٦٧٤٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: نا يونس بن أبي إسحاق قال: نا أبو بردة قال: قال أبو موسى: قال رسول اللَّه ﷺ: "تستأمر اليتيمة في نفسها، فإن سكتت فقد أذنت، وإن أنكرت لم تنكح" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یتیم لڑکی سے اس کے دل کی اجازت طلب کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی اجازت ہے اور اگر وہ انکار کردے تو اس کا نکاح نہیں کرایا جائے گا۔