کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کسی عورت کی شادی نہیں کراسکتی بلکہ نکاح کروانے کااختیار مردوں کوہے
١٦٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: ليس العقد بيد النساء (و) (١) إنما العقد بيد الرجال.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نکاح کرانے کا اختیار عورت کو نہیں بلکہ یہ اختیار مرد کو ہے۔
١٦٧١٢ - حدثنا (ابن) (١) إدريس عن ابن جريج عن عبد الرحمن بن القاسم قال: لا أعلمه إلا عن أبيه عن عائشة، قالت: كان الفتى من بني (أخيها) (٢) إذا ⦗١٧٢⦘ هوى الفتاة من (بنات) (٣) أخيها ضربت بينهما سترًا وتكلمت، فإذا لم يبق إلا النكاح قالت: يا فلان! أنكح، فإن النساء لا ينكحن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب دیکھتیں کہ ان کے بھائی کے بچوں میں سے کوئی نوجوان کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو ان کے درمیان پردہ کردیتیں اور بات کرتیں۔ اور جب نکاح کے علاوہ کوئی صورت نہ بچتی تو فرماتیں اے فلاں ! ان کا نکاح کرادو کیونکہ عورتیں نکاح نہیں کراسکتیں۔
١٦٧١٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد عن أبي هريرة قال: لا تزوج المرأة المرأة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت عورت کی شادی نہیں کراسکتی۔
١٦٧١٤ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد قال: لا تنكح المرأة المرأة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ عورت عورت کی شادی نہیں کراسکتی۔
١٦٧١٥ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: تزوج المرأة أمتها، فإذا أعتقتها لم تزوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ عورت اپنی باندی کی شادی کر اسکتی ہے، جب وہ اسے آزاد کردے تو اس کی شادی نہیں کراسکتی۔
١٦٧١٦ - حدثنا يزيد بن (١) هارون قال: أخبرني ابن أبي ذئب عن (مولى) (٢) (لبني) (٣) هاشم عن علي قال: لا تشهد المرأة، يعني الخطبة ولا تنكح (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت پیغام نکاح کے وقت حاضر نہ ہوگی اور نہ نکاح کر اسکتی ہے۔